نثار کھوکھر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاکت کی وجہ ذاتی دشمنی ہوسکتی ہے |
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ میں مسلح افراد نے اکبر بگٹی کے بیٹے سلیم بگٹی کے منشی کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا ہے۔ سانگھڑ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں ذاتی دشمنی کی بنیاد پر قتل کردیا گیا ہے۔ بدھ کی شب سانگھڑ کے قریب گاؤں نواب بگٹی میں تین مسلح افراد نے پچاس سالہ منشی غلام رسول لاشاری کو قتل کردیا۔ سانگھڑ پولیس کے سربراہ اجمل مگسی نے بی بی سی کو بتایا کہ منشی کا قتل ذاتی دشمنی کی بنیاد پر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان تین ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جن کے نام منشی غلام رسول کے ورثاء نے شک کی بنیاد پر پولیس کو دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزموں کےنام قتل کیس درج ہونے کے بعد ظاہر کیے جائیں گے۔ بلوچستان کے قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی فوجی آپریشن میں ہلاکت کے کئی ماہ بعد سانگھڑ میں ان کے گاؤں کوٹ بگٹی پر سرچ آپریشن کیا گیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ آپریشن اکبر بگٹی کے پوتے برہمداغ بگٹی کی موجودگی کے اطلاعات میں کہا گیا تھا۔ کوٹ بگٹی میں لوگ تو موجود ہیں لیکن بگٹی کی وہ زرعی زمین آباد نہیں ہورہی جو انہیں انگریز حکمرانوں نے مراعات میں دی تھیں۔ اکبر بگٹی کے بیٹے سلیم بگٹی کی بیوہ رضیہ بی بی نے دو اپریل کو سندھ ہائی کورٹ میں بگٹی خاندان کی زرعی زمین پر سرکاری قبضے کے خلاف ایک پٹیشن دائر کی تھی۔ رضیہ بی بی نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ سانگھڑ اور نوابشاہ اضلاع میں ان کی خاندانی زمینوں پر سرکاری قبضہ ختم کرایا جائے اور ان کی ملکیت ان کے حوالے کی جائے۔ سلیم بگٹی کے منشی غلام رسول لاشاری کے قتل کے بعد گاؤں نواب بگٹی میں حفاظتی اتنظامات مزید سخت کردیے گئے ہیں۔ سانگھڑ پولیس کے سربراہ کے مطابق ’اس علاقے میں پولیس چوکیاں ہم پہلے سے لگاتے رہے ہیں اور اب بھی موجود ہیں لیکن ان چوکیوں کی تعداد کتنی ہے یہ نہیں بتا سکتا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’منشی لاشاری کے قتل میں کوئی سکیورٹی اہلکار ملوث نہیں۔اس بات کو ہم نے کلیئر کردیا ہے۔‘
|