بگٹی کے پوتے کی گرفتاری کا دعویٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر جعفرآباد میں پولیس نے جمعہ کو نواب اکبر بگٹی کے پوتے شاہ زین بگٹی کو تیرہ ساتھیوں سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ طلال بگٹی نے کہا ہے کہ شاہ زین کو کچھ روز پہلے خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے کراچی سے اٹھایا تھا۔ جعفرآباد کے پولیس افسر سہیل شیخ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آج پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اللہ یار میں چھتن پٹی تھانہ کی حدود میں مکان پر چھاپہ مارا ہے جہاں سے شاہ زین بگٹی اور ان کے تیرہ ساتھیوں کو اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد سمیت گرفتار کر لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلحہ مکان کے اندر کمروں میں اور شاہ زین کے ساتھیوں کے پاس تھا۔ ضلع جعفرآباد کی تحصیل ڈیرہ اللہ یار میں نواب اکبر بگٹی کی زرعی زمینیں ہیں۔ اس بارے میں نواب اکبر بگٹی کے بیٹے اور شاہ زین کے والد طلال اکبر بگٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ سب ذمہ داری پولیس اپنے سر لے رہی ہے جبکہ شاہ زین کو دو مئی کو کراچی میں خفیہ ایجنسی کے حکام نے طلب کر کے اٹھا لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ ڈیرہ اللہ یار کے قریب خفیہ ایجنسیوں کی کارروائی میں کچھ لوگ ہلاک ہو گئے تھے جن میں فورسز کے اہلکار بھی تھے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس وقت ملک بھر سے ایجنسیوں نے چھ ہزار سے زیادہ لوگوں کو اٹھایا ہے جن کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ | اسی بارے میں ڈیرہ بگٹی میں کارروائی کا فیصلہ13.06.2002 | صفحۂ اول ڈیرہ بگتی میں سینکڑوں گرفتار15.06.2002 | صفحۂ اول گیس:اعلیٰ سطحی اجلاس03.02.2003 | صفحۂ اول ڈیرہ بگٹی میں احتجاج26.05.2003 | صفحۂ اول قبائلی تصادم میں چھ ہلاک14.06.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||