BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 January, 2007, 18:10 GMT 23:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرہ بگٹی: ’آپریشن دوبارہ شروع‘

ڈیرہ بگٹی
فوجی ترجمان نے آپریشن کے دوبارہ آغاز کی تصدیق کی ہے
ڈیرہ بگٹی میں پاکستانی سکیورٹی فوسز کی جانب سے ایک مرتبہ پھر بلوچ مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق حالیہ آپریشن تیس دسمبر سے شروع ہوا۔

سوئی سے ملنے والی خبروں کے مطابق مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائی کے لیے متعدد ہیلی کاپٹروں کو پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے جبکہ عینی شاہدین کے مطابق انہوں نے اتوار کو دو مسلح افراد کی لاشیں سکیورٹی افواج کی تحویل میں دیکھی ہیں۔

کوئٹہ میں آئی ایس پی آر کے ترجمان کرنل اختر نے ڈیرہ بگٹی میں مزاحمت کاروں کے خلاف آپریشن کی تو تصدیق کی مگر بلوچ مزاحمت کاروں کی ہلاکتوں سے لاعلمی ظاہر کی۔

ڈیرہ مراد جمالی کے ایک مقامی صحافی غنی بحش مگسی کے مطابق حالیہ کارروائی میں چار مزاحمت کاروں کو ہلاک جبکہ سات افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

مری اتحاد کے ترجمان اللہ بخش مری نے دعوٰی کیا ہے کہ اتوار کو کوہلو اور کاہان میں بھی آپریشن جاری ہے اور فوج نے علاقے کے کئی گھروں کو نذرِ آتش کر دیا اور متعدد افراد کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

 کوئٹہ میں آئی ایس پی آر کے ترجمان کرنل اختر نے ڈیرہ بگٹی میں مزاحمت کاروں کے خلاف آپریشن کی تو تصدیق کی مگر بلوچ مزاحمت کاروں کی ہلاکتوں سے لاعلمی ظاہر کی۔

ادھر نوشکی میں چار جماعتی اتحاد کے رہنماؤں نے ایک احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ڈیرہ بگٹی میں جاری آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے۔ مقررین نے بلوچ عوام سے کہا کہ وہ نواب اکبر بگٹی کی قربانی کو یاد رکھیں۔ انہوں نے حراست میں لیےگئے بلوچ رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں ایک سال سے جاری آپریشن کے دوران مختلف حکومتی اداروں نے سینکڑوں بلوچ باشندوں کو حراست میں لیا ہے اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو ابھی تک لاپتہ ہیں۔

دریں اثناء ڈیرہ مراد جمالی میں رات گئے ریل کی پٹری پر ہونے والے دو دھماکوں کے بعد صوبہ پلوچستان کو سندھ اور پنجاب سے ریل رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق یہ دھماکے پندرہ منٹ کے فرق سے اس وقت ہوئے جب سٹیشن سے کوئٹہ سے کراچی جانے والی نائٹ کوچ، بولان ایکسپریس اور لاہور جانے والی جعفر ایکسپریس گزرنے والی تھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پٹڑی کی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور چار گھنٹے تک ریل رابطہ بحال کر دیا جائے گا۔

اسی بارے میں
سابق فراری بگتی کمانڈر ہلاک
19 December, 2006 | پاکستان
صحافیوں کا ڈیرہ بگٹی کا دورہ
23 September, 2006 | پاکستان
بلوچستان: بم دھماکہ، 5 ہلاک
08 September, 2006 | پاکستان
خوف ختم نہیں ہوا
04 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد