BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 May, 2007, 18:34 GMT 23:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ دھماکہ، بگٹی کے گھر چھاپہ

طلال بگٹی اور ان کے صاحبزادے
طلال بگٹی نے فائرنگ کا الزام خفیہ اداروں پر لگایا ہے
کوئٹہ میں سریاب روڈ پر دھماکے سے ایک سرکاری ملازم ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ گزشتہ کچھ روز سے جاری دھماکوں کے حوالے سے پولیس نے تیرہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

ڈ پٹی انسپکٹر جنرل پولیس رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ سریاب روڈ پر جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے دفتر کے سامنے حمام کی دکان پر کچھ لوگ بیٹھے تھے کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار لوگوں نے ان پر دستی بم پھینک دیا ہے۔ اس دھماکے سے جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے اکاؤنٹ برانچ کے ایک ملازم عنایت اللہ ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ پانچ افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

اس دوران بلوچستان کے علاقے جعفر آباد میں گھاڑی کے مقام پر سیکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر نواب اکبر بگٹی کے پوتے کے مکان پر اسلحہ قبضے میں لے کر کم سے کم دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

نواب اکبر بگٹی کے بیٹے اور جمہوری وطن پارٹی کے اپنے گروپ کے سربراہ طلال اکبر بگٹی نے ایک ہنگامی اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے بھاری اسلحہ کے ساتھ ان کے مکان کو گھیرے میں لے کر پہلے حملہ کرنے کی دھمکی دی اور بعد میں سرچ آپریشن کے بہانے داخل ہوئے اور دو افراد کو گرفتار کرکے پچاس سے زیادہ کلاشنکوف ایک مزدا ٹرک اور نقدی کے علاوہ دیگر روز مرہ استعمال کا سامان لے گئے ہیں۔

یاد رہے گزشتہ روز ڈیرہ اللہ یار میں سیکیورٹی فورسز اور طلال اکبر بگٹی کے محافظوں کے مابین فائرنگ سے دو راہگیروں سمیت کم سے کم چار افراد ہلاک اور چار زخمی ہو گئے تھے۔

طلال بگٹی کا بیان
 سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے بھاری اسلحہ کے ساتھ ان کے مکان کو گھیرے میں لے کر پہلے حملہ کرنے کی دھمکی دی اور بعد میں سرچ آپریشن کے بہانے داخل ہوئے اور دو افراد کو گرفتار کرکے پچاس سے زیادہ کلاشنکوف ایک مزدا ٹرک اور نقدی کے علاوہ دیگر روز مرہ استعمال کا سامان لے گئے

جعفر آباد سے مقامی صحافیوں نے بتایا ہے جس مکان پر چھاپہ مارا گیا ہے وہاں طلال بگٹی کے بیٹے شاہ زین رہائش پذیر ہیں۔

طلال بگٹی نے کہا کہ وہ زمیندار ہیں اور ان کی زمینوں پر کام کرنے والے بڑی تعداد میں لوگ ان کے ساتھ رہتے ہیں اور اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران سمجھتے ہیں کہ ہر انسان مسلم لیگ کے قائدین کی طرح ان کے سامنے جھک جائے گا لیکن یہ ان کی بھول ہے۔

اس بارے میں مقامی پولیس افسر اور صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے رابطے کی بارہا کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

کوٹ بگٹی ’ویرانیوں کا ڈیرہ‘
سانگھڑ کے کوٹ بگٹی پر فوج قابض، پولیس محافظ
بگٹیوں کی مشکلات
بگٹی خاندان کا امتحان ابھی ختم نہیں ہوا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد