BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 July, 2007, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رازق بگٹی قاتلانہ حملے میں ہلاک

 ہلاکت کا شبہ بلوچ باغیوں پر کیا جارہا ہے
ہلاکت کا شبہ بلوچ باغیوں پر ہے
حکومت بلوچستان کے ترجمان عبدالرازق بگٹی کو نامعلوم افراد نے جمعہ کو اندھاد ھند فائرنگ کر کے ہلاک کردیا۔

تفصیلات کے مطابق عبدالرازق بگٹی اپنی کالی رنگ کی پراڈو گاڑی نمبرBC-2982 میں پاکستان ٹیلی ویژن کوئٹہ سینٹر کے ایک پروگرام میں شرکت کے بعد واپس گھر کی طرف جا رہے تھے کہ ان پر حملہ ہوا۔

زرغون روڈ پر واقع گرائمر سکول کے قریب تقریباً چار بجکر10منٹ پر نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سوار، جو ان کے تعاقب میں تھے، نے ان کی گاڑی پر اندھادھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ ان کی لاش سول ہسپتال میں ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردی گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق رازق بگٹی خود ہی گاڑی چلا رہے تھے اور ان کے ہمراہ سیکورٹی اہلکار نہیں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی تو گاڑی بے قابو ہو کر فٹ پاتھ پر چڑھ گئی۔

فائرنگ کے نتیجے میں رازق بگٹی کے سر، گردن، سینے اور جسم کے دیگر حصوں پر کئی گولیاں لگیں۔ حملہ آور واقعے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ واقعہ کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

حکومتی ترجمان کی ذمہ داریاں
 رازق بگٹی وزیر اعلی ٰبلوچستان جام محمد یوسف کے میڈیا کنسلٹنٹ تھے۔ انہوں نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد حکومت کی جانب سے میڈیا میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا اور نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور صوبے میں پیش آنے والی صورتحال کے بارے میں حکومتی موقف میڈیا کے سامنے لاتے رہے تھے جس کے بعد انہیں کئی دفعہ قتل کرنے کی دھمکیاں بھی ملیں تھیں۔ تاہم اس کے باوجود انہوں نے حکومتی ترجمان کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی صوبائی پولیس سربراہ طارق مسعودہ کھوسہ، سی سی پی او کوئٹہ راہو خان بروہی اور ڈی آئی جی آپریشن رحمت اللہ نیازی موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس حکام نے فوری طور پر ملزمان کو گرفتار کرنے کے لئے احکامات جاری کیے۔

واقعہ کی خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور بڑی تعداد میں لوگ ہسپتال اور جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔

واضح رہے کہ واقعہ کوئٹہ کی مصروف ترین شاہراہ پر پیش آیا ہے جہاں سے چند سو فٹ کے فاصلے پر گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس، سول سیکرٹریٹ، بلوچستان اسمبلی اور دیگر اہم سرکاری عمارتیں واقع ہیں۔ یہاں عام دنوں میں سیکورٹی کی بھاری نفری تعینات ہوتی ہے جبکہ اس واقعہ کے وقت زرغون روڈ پر سیکورٹی اہلکار غائب تھے۔

سی سی پی او راہو خان بروہی کے مطابق رازق بگٹی عام طور پر اکیلے ہی سفر کرتے ہیں اور ان کے ہمراہ محافظ نہیں ہوتے تھے۔ پولیس کے مطابق جمعہ کے روز ان کی گاڑی پر اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ پی ٹی وی بولان پر صوبے میں آنے والے حالیہ سیلاب کی صورتحال پر ’سیلاب کی تباہ کاریاں اور حکومتی امدادی کارروائیاں‘ کے موضوع پر ہونے والے براہ راست پروگرام میں شرکت کے بعد واپس اپنی گاڑی میں گھر جا رہے تھے۔

رازق بگٹی وزیر اعلی ٰبلوچستان جام محمد یوسف کے میڈیا کنسلٹنٹ تھے۔ انہوں نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد حکومت کی جانب سے میڈیا میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا اور نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور صوبے میں پیش آنے والی صورتحال کے بارے میں حکومتی موقف میڈیا کے سامنے لاتے رہے تھے جس کے بعد انہیں کئی دفعہ قتل کرنے کی دھمکیاں بھی ملیں تھیں۔ تاہم اس کے باوجود انہوں نے حکومتی ترجمان کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان بیرگ بلوچ نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ رازق بگٹی نواب اکبربگٹی کے قتل میں ملوث تھے اوربقول انکے کہ بلوچ عوام کے ان تمام دشمنوں کا یہی انجام ہوگا جو بلوچستان کے عوام کے حقوق کے مقابلے میں جنرل پرویزمشرف کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
بے بس و بے گھر مہاجر بلوچ
04 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد