بلوچستان: احتجاج سینکڑوں گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک میں ایمرجنسی، آئین کی معطلی، سپریم کورٹ کے ججوں کی برطرفی اور سیاسی رہنماؤں و کارکنوں اور وکلا کی گرفتاریوں اور میڈیا پر پابندی کے خلاف اے پی ڈی ایم کی اپیل پر پیر کو بلوچستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرو ں کے دوران سو سے زیادہ افراد گرفتار کیے گئےہیں۔ کوئٹہ میں ایک بڑے مظاہرے کومنتشرکرنے کیلیے پولیس سیاسی کارکنوں پر لاٹھی چارج بھی کیا۔ مظاہرین نے آئین و عدلیہ کی بحالی اور ایمرجنسی اور نجی ٹی وی چینلوں پر پابندی ختم کرنے کے مطالبات کیے۔ کوئٹہ میں اے پی ڈی ایم کے احتجاج کے موقع پرحکومت کی جانب سے بھاری تعداد میں تعینات پولیس اورفرنٹئر کور کے دستوں کی توجہ ہٹانے کیلیے ان سیاسی کارکنوں نے کلی گل محمد سریاب روڈ تختائی بائی پاس اورسریاب روڈ پرچھوٹے چھوٹے مظاہروں کے دوران ٹائر کو نذرآتش کیے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ اے پی ڈی ایم نے باچاخان چوک پراحتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم شہر میں علی الصبح ہی انتظامیہ نے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر کے سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کردی تھی جس کے بعد اے پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے انتظامیہ کو چکما دیکر کارکنوں کو جنکشن چوک پر اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ جہاں اے پی ڈی ایم کے کارکنوں نے پشتونخوا نیپ کے صوبائی صدرعثمان کاکڑ، عبدالقہار ودان، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر خدائیداد کمانڈر، جنرل سیکرٹری انجینئر زمرک، مسلم لیگ ن کے خدائے نورخان، جماعت اسلامی کے زاہداختر، مولوی رحمت اللہ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے عبدالولی کاکڑ، آغا حسن، جمعیت علمائے اسلام کے عبدالقدوس ساسولی، تحریک انصاف کے شاہد قاضی اور دیگر کی قیادت میں سڑک بند کر کے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ ہمارے پرامن احتجاج کو ڈنڈے کے زور پر روکنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ہمارا احتجاج آئین کی بحالی تک جاری رہے گا اور جب تک ملک سے ایمر جنسی اور پی سی او کے نفاذ کا خاتمہ نہیں ہوتا اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نگراں حکومتوں کی موجودگی میں شفاف و غیر جانبدار الیکشن ممکن نہیں۔ کوئٹہ شہر کے مرکزجنکشن چوک پر مظاہرین پر تشدد اورگرفتاریوں کے دوران پولیس نے صحافیوں اورفوٹوگرافروں کو تصویریں بنانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ ڈی آئی جی کوئٹہ رحمت اللہ نیازی نے صرف بائیس افراد کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ ایک سو چوالس میں کسی کو بھی جلسہ یا مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کوئٹہ کے علاوہ مسلم باغ، قلعہ سیف اللہ، مستونگ، نوشکی، خضدار، چمن، گوادر اور دیگر علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں ۔ مسلم باغ میں لاٹھی چارج سے پانچ مظاہرین زخمی ہوگئے جبکہ پچیس سے زائد کو گرفتار کیا گیا۔ قلعہ سیف اللہ میں بیس سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔ نوشکی میں نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر خورشید جمالدینی سمیت سات مظاہرین کوگرفتار کیا گیا۔ چمن میں بھی احتجاج کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ اے پی ڈی ایم میں شامل جمعیت علمائے اسلام (ف )نے اس احتجاج میں حصہ نہیں لیا۔
دوسری جانب ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ، آئین کی معطلی اور وکلا کی گرفتاریوں کے خلاف بلوچستان کے وکلا نے عدالتوں سے بائیکاٹ کا سلسلہ سولہویں روز بھی جاری رکھا اور کوئی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا جس سے عدالتی کام متاثر ہوا۔ کوئٹہ میں وکلاءنے اپنے مطالبات کے حق میں علامتی بھوک ہڑتال جاری رکھی جس میں احمد یار ایڈووکیٹ اور فیصل ایڈووکیٹ نے حصہ لیا۔ انہوں نے گرفتار وکلا کی رہائی اور عدلیہ کی آزادی تک احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ | اسی بارے میں بائیکاٹ موخر، احتجاج کی کال19 November, 2007 | پاکستان کراچی، صحافیوں کا احتجاج جاری14 November, 2007 | پاکستان سندھ میں تین روزہ احتجاج کا اعلان13 November, 2007 | پاکستان صحافیوں کا احتجاج جاری ہے11 November, 2007 | پاکستان بے نظیر بھٹو لاہور کے لیے روانہ، صحافیوں کا احتجاج جاری11 November, 2007 | پاکستان میڈیا پابندیاں، احتجاج کا اعلان07 November, 2007 | پاکستان وکلاءاحتجاج جاری، مزیدگرفتاریاں06 November, 2007 | پاکستان ’حالات عوامی احتجاج کی جانب ‘03 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||