BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 November, 2007, 08:23 GMT 13:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بے نظیر بھٹو لاہور کے لیے روانہ، صحافیوں کا احتجاج جاری

بینظیر کی غیر ملکی سفیروں سے ملاقات
بینظیر نے غیر ملکی سفیروں سے ملاقات کے دوران ملکی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا

بے نظیر لاہور کے لیے زرداری ہاؤس سے روانہ ہو گئی ہیں جہاں مختلف مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور زبردست حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد کے ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہونے سے قبل انہوں نے مختلف اخبارات کے مدیروں اور کچھ سفارتکاروں سے ملاقات کی۔


بے نظیر بھٹو کی لاہور آمد کے موقع پر پولیس کی بڑی تعداد نے ہوائی اڈے اور ارد گرد کے علاقوں کو گھیرے میں لے رکھا ہےاور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو ہوائی اڈے جانے سے روکنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ وہ نو سال بعد لاہور آ رہی ہیں۔

شہر کے علامہ اقبال ہوائی اڈے کی طرف جانے والے راستوں پر جگہ جگہ ناکے لگائے گئے ہیں اور صرف مال روڈ سے ہوائی اڈے تک جانے والے روڈ پر درجن سے زائد ناکے لگائے گئے ہیں جہاں سے صرف ہوائی جہاز کا ٹکٹ رکھنے والوں کو ہی آگے جانے کی اجازت دی جارہی ہے جبکہ ان کے ساتھ جانے والے باقی افراد کو واپس کردیا جاتا ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بینظیر بھٹو بھی پہنچیں
پیپلز پارٹی میڈیا سیل نے بے نظیر بھٹو کی آمد اور ان کی دیگر مصروفیات کی کوریج کے لئے میڈیا کوخصوصی تصویر والے اجازت نامے جاری کئے ہیں۔ پیپلزپارٹی پنجاب کی ترجمان فرزانہ راجہ کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکن بے نظیر کے استقبال کے لئے تمام رکاوٹیں توڑ کر ہوائی اڈے کے احاطے میں پہنچنے کی کوشش کریں گے۔

بے نظیر نے تیرہ نومبر کو لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن پولیس نے چار پانچ دن میں پی پی پی کے پانچ ہزار سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے مطابق اس وقت ان کے پانچ ہزار سے زائد کارکن زیر حراست ہیں جبکہ مزید چھاپے جاری ہیں۔

ایک پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ بے نظیر کی حفاظت کے لئے حکومت نے خصوصی اقدامات کئے ہیں۔ ہوائی اڈے سے بلاول ہاؤس ماڈل ٹاؤن تک پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جبکہ پولیس اہلکاروں کا دستہ مسلسل ان کی حفاظت کے لئے ساتھ رہے گا اور ان کے گھر کے باہر بھی پہرہ دے گا۔

دوسری طرف پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ اور میڈیا بلیک آؤٹ پر وکلاء کی جانب سے عدالتی بائیکاٹ اور صحافیوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

ادھر امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ انہیں صدر پرویز مشرف پر اعتماد نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ امریکی صدر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ صدر مشرف اور بینظیر بھٹو دونوں القاعدہ کے خطرے کی سنگینی سے بخوبی آگاہ ہیں۔

صحافیوں کا احتجاج
نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کی اپیل پر اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں میڈیا پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ اسلام آباد میں صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بینظیر بھٹو بھی پہنچ گئیں اور انہوں نے صحافیوں کو یقین دلایا کہ وہ ان کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں۔

ووٹ
403 Forbidden

Forbidden

You don't have permission to access /cgi-bin/vote.pl on this server.

نتائج عوامي رائے کي سو فيصد نمائندگي نہيں کرتے

’میں آج بھی جج ہوں‘
جسٹس افتخار بی بی سی سے خصوصی انٹرویو
ججزججز کالونی
ججز کالونی کے’اسیر‘، آپس میں نہیں مل سکتے
اسلام آبادپاکستان میں ہنگامے
پی پی پی کی ریلی کوشش اور گرفتاریاں
عاصمہ جہانگیروکلاء پر’ تشدد‘
جیلوں میں بند وکلاء نمائندوں پر تشدد کا الزام
جنرل مشرفمیڈیا، عدلیہ کو نکیل
پی سی او کا مقصد ججوں اور میڈیا کو نکیل ڈالنا
ناہید خانپی پی پی کا مظاہرہ
پارلیمان کے سامنے جیالوں کے نعرے
اسی بارے میں
سرحد میں وکلاء کی ہڑتال جاری
08 November, 2007 | پاکستان
بان کی مون پر پاکستان ناراض
07 November, 2007 | پاکستان
چیف الیکشن کمشنر بھی سرگرم
07 November, 2007 | پاکستان
جنرل اسمبلی میں بحث کا امکان
08 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد