BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 October, 2007, 22:43 GMT 03:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچ علاقوں میں عید پر یوم سیاہ

لاپتہ افراد کے لیے مظاہرہ(فائل فوٹو)
’عید کا دن خوشیوں کا نہیں بلکہ غم کا دن ہے۔‘ لاپتہ افراد کومنظرعام پر لانے کامطالبہ۔
بلوچستان کے زیادہ تر بلوچ علاقوں میں عید کو یوم سیاہ کے طورمنایا گیا۔ کوئٹہ خضداراور تمپ میں خواتین نے اپنے مظاہروں میں لاپتہ افراد کومنظرپرعام پر لانے اورصوبے میں جاری فوجی آپریشن بند کرنے کا کا مطالبہ کیا۔ ان مظاہروں میں خواتین اوربچون کی ایک بڑی تعداد نےشرکت کی ہے۔

بلوچ خواتین پینل کی اپیل پرعیدالفطر کے پہلے روز بلوچستان کے اکثرعلاقوں میں یوم سیاہ منایا گیا۔ اس موقع پربلوچ خواتین نے بلوچ لاپتہ افرادکی بازیابی کے لیے کوئٹہ سمیت خضدار وتمپ تربت میں احتجاجی ریلوں کااہتمام کیا تھا اوربلوچستان میں جاری مبینہ فوجی آپریشن کے خلاف کوئٹہ میں ایک بڑاجلوس نکالا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں خواتین اوربچوں کے علاوہ بی ایس او اوربلوچ سیاستدانو ں نے شرکت کی۔

صوبے میں نقصان
 بلوچستان میں گزشتہ دوسالوں سے جاری آپریشن میں بلوچ سردار نواب محمد اکبربگٹی سمیت سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں جن میں کئی خواتین اوربچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچ شدت پسندوں کی جانب سے بھی نہ صرف حکومتی دستوں کو جانی نقصان پہنچا ہے بلکہ بڑے پیمانے پرسرکاری املاک کوبھی نقصان پہنچا ہے۔
اتوار کی سہ پہر کو کوئٹہ کے باچاخان چوک پرایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہو ئے بلوچ خواتین پینل کی خاتون ترجمان شکر بلوچ ایڈوکیٹ نے اپنے مختصرخطاب میں کہا کہ عیدمسلمانو ں کا تہوار ہے لیکن بلوچ قوم احتجاج پر ہے کیونکہ کوئی بلوچ گھرایسا نہیں ہے کہ جہاں سے لوگوں کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے اغوا نہ کیاہو۔ ان کے بقول آج بھی قلات، نوشکی اور ڈیرہ بگٹی کے علاقوں میں فوجی آپریشن جاری ہے جس کے نتیجے میں چار ہزار بلوچ بے سر وسامانی کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔

انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظموں سے اپیل کی کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کانوٹس لیں۔ کوئٹہ کے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ بارایسوسی ایشن کے صدرصادق رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان میں اس آپریشن کے دوران ہزاروں افراد خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا ہو چکے ہیں اور نواب محمد اکبربگٹی کی ہلاکت اورسابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اخترمینگل سمیت سینکڑوں نوجوانوں کی گرفتاری کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

صادق رئیسانی کے مطابق اس صورتحال میں بلوچوں کے لیے عید کا دن خوشیوں کا نہیں بلکہ غم کا دن ہے۔ انہوں نے حکومت سے بلوچ لاپتہ افراد کومنظرعام پر لانے کامطالبہ کیا۔

ایک لاپتہ نوجوان محمود علی لانگو کی بہن نے کہا کہ ان کے بھائی کو، جن کی حال ہی میں شادی ہوئی تھی، ایک ہفتہ قبل اغواءکیاگیا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ ان کے بھائی سمیت تمام لاپتہ بلوچوں کو کومنظرعام پرلانے کے لیے اقدامات کرے اورخفیہ ایجنسیوں کواس طرح کی کارروائیوں سے روک دیا جائے۔

مظاہرین نے وزیراعلیٰ سردار اخترمینگل سمیت تمام اسیر بلوچوں کی رہائی، بلوچستان میں فوجی آپریشن بند کرنے اور نئی فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر بند کرنے کے مطالبات شامل تھے۔

بلوچستان میں گزشتہ دوسالوں سے جاری آپریشن میں بلوچ سردار نواب محمد اکبربگٹی سمیت سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں جن میں کئی خواتین اوربچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچ شدت پسندوں کی جانب سے بھی نہ صرف حکومتی دستوں کو جانی نقصان پہنچا ہے بلکہ بڑے پیمانے پرسرکاری املاک کوبھی نقصان پہنچا ہے۔ حکومت کامؤقف ہے کہ وہ صوبے کی ترقی کے لیے نہ صرف فوجی چھاؤنیاں تعمیرکی جائیں گی بلکہ گوادر پورٹ سمیت دیگرترقیاتی منصبوں کوبھی مکمل کیاجائے گا اور اس کی راہ میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
بلوچستان میں تین عیدیں
13 October, 2007 | پاکستان
قلات: ایک خاندان کے چھ ہلاک
14 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد