پاکستانایوب ترین کوئٹہ |  |
 | | | فوجی دستے پر حملہ باؤچر کے کوئٹہ دورے کی مناسبت سے ہوا: مینگل |
کوئٹہ میں تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سرچ آپریشن کرتے ہوئے 200 سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کیا ہے۔ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کلی اسماعیل میں نامعلوم افراد نے پولیس گاڑی پر فائرنگ کرکے ایس پی انویسٹی گیشن شہریاب سمیت تین اہلکاروں کوہلاک کردیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہرکے شمالی حصے میں واقع کلی اسماعیل کو محاصرے میں لے لیا اورجمعرات کی علی الصبح 6 بجے سرچ آپریشن شروع کردیا۔ ڈی آئی جی آپریشن رحمت اللہ نیازی کے مطابق کارروائی کے دوران200سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا جنہیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ کلی اسماعیل پولیس پر حملے میں ملوث ملوث ملزمان کی گرفتاری کےلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ واقعہ کے بعد شہر میں سیکورٹی کے انتظامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں اور مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔ آپریشن میں انسداد دہشت گردی فورس، فرنٹیئر کور ، پولیس اور بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ آپریشن کے دوران گھر گھر کی تلاشی لی گئی اور سینکڑوں مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ کلی اسماعیل کے ناظم جاوید مینگل نے بتایا کہ گزشتہ دو پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد کی ہلاکت کے بعد سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کا محاصرہ کر رکھا ہے اور گھر گھر تلاشی کے دوران ان کے بقول اب تک 300 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محاصرے کی وجہ سے بچوں کو سکول بھی نہیں جانے دیا گیا ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیکورٹی فورسز کلی کا محاصرہ ختم کرکے اصل ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات کریں جن کی وجہ سے حالات خراب ہوئے۔ ادھر بلوچ قوم پرست رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ کلی اسماعیل میں آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز نے چادر اور چاردیواری کے تقدس کی پامال کرتے ہوئے بےگناہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو قابل مذمت ہے۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری حاصل بزنجو نے کوئٹہ کے علاقے کلی اسماعیل میں سرچ آپریشن اور گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرچ آپریشن کے خلاف جمعہ 28 ستمبر کو کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا جائےگا۔ |