BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان میں تین عیدیں

پولیس
عیدگاہ میں داخل ہونے والے نمازیوں کی تلاشی بھی ہوگی (فائل فوٹو)
بلوچستان کے پشتون علاقوں میں سنیچر کو عید منائی جا ری ہے، افغان مہاجرکیمپوں میں جمعہ کوعید منائی گئی تھی جبکہ صوبے کے دیگرعلاقوں میں عید اتوار کو ہوگی۔ ادھر بلوچ خواتین پینل نے عید کے دن کویوم سیاہ کے طورپرمنانے کا اعلان کیا ہے۔

صوبے کے شمالی علاقوں ژوب اور چمن میں سنیچر کو عید منائی جا رہی ہے۔ ان علاقوں میں سنیچرکی صج عید کے اجتماعات ہوئے ہیں تاہم ان شہروں میں سرکاری ملازمین اتوار کو عید منائیں گے۔ اسکے علاوہ لورالائی، مسلم باغ اور پشین میں بھی بعض لوگوں نے سنیچر کو عید منائی جبکہ افغان مہاجرکیمپوں میں زیادہ تر لوگوں نے جمعہ کو عید منائی تھی۔

لوگوں نے صوبے میں تین مختلف دن عید منانے پرمرکزی رویت ہلال کمیٹی کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا اورکہا ہے کہ دیگرمذاہب کی طرح پوری دنیا کے مسلمانوں کو بھی ایک ہی دن عید منانی چاہیے۔

ایک شہری صلاح الدین نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوبتایا کہ ایسا علماء کے ذاتی اختلافات کی وجہ سے ہے جسکی وجہ سے عام لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ ’ہمارے علماء اسلام میں بھی سیاست چمکانے کی کوشش کرتے ہیں، مقامی لوگ چمن اور ژوب کے علماء کے مقابلے میں اسلام آباد کے علماء کی بات کو ترجیح دیتے ہیں۔

ایک اورشہری عزیزنے کہا کہ اتوار کوعید منانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ لوگ ذہنی طور پر سنیچر کو عیدمنانے کے لیے تیار تھے۔

محمد دین کا کہنا تھا کہ عید کے تہوار تین دن منانے کی وجہ سے لوگوں میں نفاق پڑتا ہے۔ ’ چمن میں میرے رشتہ داروں کی عید ہے اور وہ عیدکی مبارکباد کے لیے فون کرتے ہیں لیکن ہم پریشان ہیں اورانکو بتاتے ہیں کہ آج یہاں روزہ ہے۔‘

تین عیدوں کی وجہ سے سنیچر کو کوئٹہ شہر میں لوگوں کی چہل پہل کم رہی کیونکہ زیادہ تر لوگوں نے جمعہ کو ہی عید کی خریداری مکمل کرلی تھی۔

کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگرشہروں میں عید کے موقع پر حکومت نے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ عیدگاہ میں داخل ہونے والے نمازیوں کی تلاشی بھی ہوگی جبکہ بلوچ خواتین پینل کی جانب سے بلوچستان میں جاری آپریشن کے خلاف اورلاپتہ افرادکے خاندانو ں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اتوار کو یوم سیاہ کے طور پرمنانے کا اعلان ہوا ہے۔

بلوچ خواتین پینل کے ترجمان شکر بلوچ ایڈوکیٹ کے مطابق ان کے احتجاج کی حمایت بلوچ طلبہ تنطیم بی ایس او ایلم اتحاد اور بلوچ بارایسوسی ایشن نے بھی کی ہے۔

ادھر وزارت داخلہ نے ملک بھر میں سکیورٹی اداروں کو عید کے موقع پر سخت حفاظتی اقدامات کرنے کی تاکید کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ شدت پسند اس موقع پر دہشتگردی کی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد