مرکزاور سرحد میں ایک ہی دن روزہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں قائم دینی جماعتوں کی حکومت اور مرکزی حکومت نے جمعہ کو پہلا روزہ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ سرحد اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں ایک ہی روز پہلا روزہ رکھا جائیگا۔ یہ اعلان پشاور میں زونل اور غیر سرکاری کمیٹیوں جبکہ اسلام آباد میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے الگ الگ منعقد ہونے والے اجلاسوں کے بعد بدھ کی رات کیا گیا۔ پشاور میں اوقاف ہال میں زونل رویت ہلال کمیٹی اور جامع مسجد قاسم علی خان میں غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے الگ الگ اجلاس منعقد ہوئے جس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبہ کے کسی بھی حصے سے چاند کی رویت کے حوالے سے قابل اعتماد شہادتیں موصول نہیں ہوسکیں لہذا جمعہ کو پہلا روزہ ہوگا۔ اس سے قبل اسلام آباد میں بھی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چئیرمین مفتی منیب الرحمان کی صدارت میں منعقد ہوا تھا جس میں جمعرات کو پہلا روزہ رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران یہ دوسری مرتبہ ہے کہ سرحد اور مرکز نے ایک دن روزہ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل سن دوہزار دو میں بھی سرحد اور مرکز حکومتوں نے ایک ساتھ روزہ رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ صوبہ سرحد کے وزیر برائے مذہبی امور مولانا امان اللہ حقانی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے قابل اعتماد شہادتیں موصول نہ ہونے کی وجہ سے جمعرات کو پہلہ روزہ رکھنے کا اعلان کیا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سرحد حکومت پر پہلے بھی یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ رمضان اور عید میں جلد بازی سے کام لیتے ہیں اور ان کے اعلانات شہادت کی بنیاد پر نہیں ہوتے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ’ اگر جلد بازی ہوتی تو ہم اعلان کردیتے لیکن ہم نے نہیں کیا کیونکہ ہمیں قابل اعتماد شہادتیں موصول نہیں ہوسکیں‘ ۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال سرحد حکومت اور مرکزی رویت ہلاک کمیٹی کے مابین عید کے معاملے پر شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے ۔ | اسی بارے میں پاکستان میں روئت ہلال پر اختلاف 23 November, 2003 | پاکستان پاکستان: ایک نہیں تین عیدیں 24 October, 2006 | پاکستان رمضان المبارک میں سحری اور ڈنڈورچی18 October, 2006 | پاکستان رمضان کا چاند: ایک بار پھر متنازعہ23 September, 2006 | پاکستان اکتیس روزے یا اٹھائیس روزے؟20 November, 2003 | پاکستان میٹھی عید کی رنگینیاں24 November, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||