BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 October, 2006, 10:35 GMT 15:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رمضان المبارک میں سحری اور ڈنڈورچی

منیر سحری کے لیے روزہ داروں کو جگاتے ہیں
رات کے تین بجے ڈول کی آواز کانوں کو عجیب لگتی ہے لیکن یہ کوئی شادی کی تقریب نہیں ہورہی بلکہ اعلان ہورہا ہے: ’سحری کا وقت ہے ایماندارو، سحری کے لئے اٹھو۔‘

صوبائی دارالحکومت پشاور اور بالخصوص پشتونوں کے علاقوں میں رمضان کے بابرکت مہینے میں رات کو ڈول بجاکر لوگوں کو سحری کے لئے جگانے کی اس پرانی روایت کو عوام میں آج بھی مقبولیت حاصل ہے۔

پشاور کے اندرون شہر کے اکثرعلاقوں میں یہ روایت سالہاسال سے رائج ہے۔ پشاور صدر کے ساتھ واقع علاقوں نوتھیہ جدید، گلبرک، گل آباد اور سواتو پاٹک میں روزانہ رات کو ایک ڈنڈورچی (ڈولچی) ڈول ہاتھ میں لئے بجاتا ہوا گلیوں سے گزرتا ہے۔

منیر نامی یہ ڈنڈورچی گزشتہ اٹھارہ سال سے باقاعدگی سے رمضان المبارک کے مہینے میں ڈول کے ذریعے سے لوگوں کو سحری کے لئے جگاتا ہے۔

منیر کا کہنا ہے کہ پہلے ان کے ساتھ ایک بانسری والا بھی ہوتا تھا لیکن چند سال قبل اس کا انتقال ہوگیا اور اب وہ اکیلا یہ کام کرتا ہے۔ منیر کے ساتھ ایک سائیکل والا بھی ہوتا ہے جو سائیکل چلا رہا ہوتا ہے اور یہ ان کے پیحھے بیٹھ کر ڈھول بجا رہا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں روزانہ رات کو تین بجے اٹھتا ہے۔ جلدی جلدی پہلے میں خود سحری کھاتا ہوں پھر دورسرے لوگوں کو اٹھاتا ہوں ۔ بس یہ میرا شوق ہے اور ثواب بھی ہے۔‘

ڈھول کی آواز کانوں کو اچھی لگتی ہے
 عام طور پر لوگوں سے سحری کے لئے نہیں اٹھاجاتا لیکن ڈھول کی آواز سن کر کانوں کو اچھی لگتی ہے اور ویسے پشتونوں کے زندگی میں تو ڈول کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے پرانے زمانے میں جرگہ یا لشکر بلانا مقصود ہوتا تو اس سے پہلے ڈول بجاکر لوگوں کواکٹھا کیا جاتا۔
منیر
منیر نے بتایا کہ وہ کسی معاوضے کی خاطر یہ کام نہیں کرتا ہاں اگر کوئی خود اپنی مرضی سے کچھ دینا چاہے تو لیتا ہے لیکن کسی سے مطالبہ نہیں کرتا۔ ’عام طور پر لوگوں سے سحری کےلئے نہیں اٹھاجاتا لیکن ڈھول کی آواز سن کر کانوں کو اچھا لگتا ہے اور ویسے پشتونوں کے زندگی میں تو ڈھول کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے پرانے زمانے میں جرگہ یا لشکر بلانا مقصود ہوتا تو اس سے پہلے ڈول بجاکر لوگوں کواکٹھا کیا جاتا۔‘

یہ معلوم کرنا تو مشکل ہے کہ ڈھول بجانے کی یہ روایت کس کے دور سے شروع ہوئی لیکن شہر کے اکثرادھیڑ عمر کے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ روایت سالہا سال سے اس شہر میں چلی آرہی ہے۔

بعض لوگ اسلام میں ڈھول یا میوزک بجانے کو ممنوع بھی قرار دیتے ہیں اور پھر رمضان جیسے مبارک مہینے میں تو بقول ان کے اس کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں۔

پشاور صدر میں کپڑے کے ایک تاجر سلمان کا کہنا ہے کہ اسلام کسی بھی صورت میں ڈھول بجانے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ رمضان میں تین بجے تو تہجد کا وقت ہوتا ہے لوگ عبادت میں مشغول ہوتے ہیں اور ایسے وقت میں ڈھول کی آواز سن کر عبادت میں خلل پڑسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سحری کے لئے لوگوں کو جگانا ثواب کا کام ہے لیکن ضروری نہیں ڈھول ہی بجائے جائے اور بھی تو کئی طریقے ہوسکتیں ہیں۔

لیکن اس ترقی یافتہ دور میں جب دنیا نے ہر شعبۂ زندگی میں ترقی کرلی ہے اور انسانی زندگی ٹیکنالوجی کے زیراثر ہوگئی ہے اس قسم کی روایات میں لوگوں کی دلچسپی برقرار رہنا سوچ پر مجبور کرتی ہے۔

آج ہرگھر میں ٹیلی فون اور موبائل فون کی سہولت موجود ہے جبکہ شہری علاقوں میں تو اس قسم کی پرانی روایات کی اب شاہد ضرورت بھی نہیں رہی۔

ایک مقامی صحافی انور علی بنگش نے بتایا کہ ’ہمارے معاشرے میں ایسے کئی روایات ہیں جن کی شاید آج کل ضرورت نہ ہوں لیکن وہ آج بھی بدستور رائج ہیں اور لوگوں میں مقبول بھی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ روایات تو ہمارے پشتونوں کی ثقافت کا حصہ ہے اور اسے برقرار رہنا چاہیے بلکہ ان کوسرکاری سرپرستی حاصل ہونی چاہیے۔‘

گائےقربانی آن لائن
عیدقربان کی سرگرمیاں منڈیوں تک محدود نہیں
زلزلہ زدوں علاقوں میں عیدزلزلے کے بعد عید
عید بھی کہیں رنج و غم کے ملبے تلے دب گئی
کھالوں کی سیاست
غرباء کی مدد سیاسی ضرورتوں کی نذر
کراچیسڑکوں پر کرکٹ
کراچی میں کچھ اور بھی ہونے کا ڈر
عید کی آمد آمد
کراچی میں موبائل چوری کا رجحان
متاثرینرمضان میں کھانا
متاثرین کو کھانا کھلانے والے مذہبی مخمصہ میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد