رمضان المبارک میں سحری اور ڈنڈورچی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رات کے تین بجے ڈول کی آواز کانوں کو عجیب لگتی ہے لیکن یہ کوئی شادی کی تقریب نہیں ہورہی بلکہ اعلان ہورہا ہے: ’سحری کا وقت ہے ایماندارو، سحری کے لئے اٹھو۔‘ صوبائی دارالحکومت پشاور اور بالخصوص پشتونوں کے علاقوں میں رمضان کے بابرکت مہینے میں رات کو ڈول بجاکر لوگوں کو سحری کے لئے جگانے کی اس پرانی روایت کو عوام میں آج بھی مقبولیت حاصل ہے۔ پشاور کے اندرون شہر کے اکثرعلاقوں میں یہ روایت سالہاسال سے رائج ہے۔ پشاور صدر کے ساتھ واقع علاقوں نوتھیہ جدید، گلبرک، گل آباد اور سواتو پاٹک میں روزانہ رات کو ایک ڈنڈورچی (ڈولچی) ڈول ہاتھ میں لئے بجاتا ہوا گلیوں سے گزرتا ہے۔ منیر نامی یہ ڈنڈورچی گزشتہ اٹھارہ سال سے باقاعدگی سے رمضان المبارک کے مہینے میں ڈول کے ذریعے سے لوگوں کو سحری کے لئے جگاتا ہے۔ منیر کا کہنا ہے کہ پہلے ان کے ساتھ ایک بانسری والا بھی ہوتا تھا لیکن چند سال قبل اس کا انتقال ہوگیا اور اب وہ اکیلا یہ کام کرتا ہے۔ منیر کے ساتھ ایک سائیکل والا بھی ہوتا ہے جو سائیکل چلا رہا ہوتا ہے اور یہ ان کے پیحھے بیٹھ کر ڈھول بجا رہا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں روزانہ رات کو تین بجے اٹھتا ہے۔ جلدی جلدی پہلے میں خود سحری کھاتا ہوں پھر دورسرے لوگوں کو اٹھاتا ہوں ۔ بس یہ میرا شوق ہے اور ثواب بھی ہے۔‘
یہ معلوم کرنا تو مشکل ہے کہ ڈھول بجانے کی یہ روایت کس کے دور سے شروع ہوئی لیکن شہر کے اکثرادھیڑ عمر کے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ روایت سالہا سال سے اس شہر میں چلی آرہی ہے۔ بعض لوگ اسلام میں ڈھول یا میوزک بجانے کو ممنوع بھی قرار دیتے ہیں اور پھر رمضان جیسے مبارک مہینے میں تو بقول ان کے اس کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں۔ پشاور صدر میں کپڑے کے ایک تاجر سلمان کا کہنا ہے کہ اسلام کسی بھی صورت میں ڈھول بجانے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ رمضان میں تین بجے تو تہجد کا وقت ہوتا ہے لوگ عبادت میں مشغول ہوتے ہیں اور ایسے وقت میں ڈھول کی آواز سن کر عبادت میں خلل پڑسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سحری کے لئے لوگوں کو جگانا ثواب کا کام ہے لیکن ضروری نہیں ڈھول ہی بجائے جائے اور بھی تو کئی طریقے ہوسکتیں ہیں۔ لیکن اس ترقی یافتہ دور میں جب دنیا نے ہر شعبۂ زندگی میں ترقی کرلی ہے اور انسانی زندگی ٹیکنالوجی کے زیراثر ہوگئی ہے اس قسم کی روایات میں لوگوں کی دلچسپی برقرار رہنا سوچ پر مجبور کرتی ہے۔ آج ہرگھر میں ٹیلی فون اور موبائل فون کی سہولت موجود ہے جبکہ شہری علاقوں میں تو اس قسم کی پرانی روایات کی اب شاہد ضرورت بھی نہیں رہی۔ ایک مقامی صحافی انور علی بنگش نے بتایا کہ ’ہمارے معاشرے میں ایسے کئی روایات ہیں جن کی شاید آج کل ضرورت نہ ہوں لیکن وہ آج بھی بدستور رائج ہیں اور لوگوں میں مقبول بھی ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہ روایات تو ہمارے پشتونوں کی ثقافت کا حصہ ہے اور اسے برقرار رہنا چاہیے بلکہ ان کوسرکاری سرپرستی حاصل ہونی چاہیے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||