BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 October, 2006, 13:34 GMT 18:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عید شاپنگ اور موبائل چور

تین جماعتیں پاس کاشف کے والد مستری ہیں
کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ عید کے دنوں میں شہر میں جرائم کی شرح دوگنی ہوجاتی ہے۔

رمضان کے مہینے میں ملک بھر سے مجرم یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ عادی مجرم ہوتے ہیں تو کچھ شوقیہ، جو اکثر چھوٹے جرائم کرتے ہیں جس میں موبائل فون چھیننا یا اس کی چوری کا رجحان زیادہ ہے، جبکہ اس سے قبل عید کے دنوں میں جیب تراشی کی شکایت عام ہوتی تھی۔

پولیس کے مطابق بٹوے سے ہمیشہ رقم نہیں نکلتی لیکن موبائل بیچ کر پیسے حاصل کرنا آسان ہے۔

گزشتہ ہفتے پولیس نے نو افراد پر مشتمل کم عمر لڑکوں کے ایک ایسے ہی گینگ کو پکڑا ہے جو شوقیہ مجرم ہیں اور عید کی خریداری اور تفریح کے لیئے جیبوں سے موبائل نکالتے تھے۔

بارہ سے سترہ سال کی عمر کے ان نو عمر مجرموں میں سولہ سال کا کاشف بھی شامل ہے جس کے مطابق بٹوہ جیب سے نکالنا مشکل ہے، اس لیئے وہ صرف موبائل نکالتے تھے۔

گرفتار ہونے والے یہ نو عمر مجرم گارمنٹ فیکٹری میں کام کرتے تھے جہاں سے انہیں ایک سو سے دو سو روپے تک دہاڑی ملتی تھی۔ وہ گزشتہ دو ہفتوں سے موبائل چوری کر رہے تھے۔

تین جماعتیں پاس کاشف کے والد مستری ہیں، جبکہ سات بہن بھائی ہیں جن میں سے کوئی بھی پڑھا لکھا نہیں ہے۔

سرجانی پولیس کے لاک اپ میں قید کاشف نے بتایا: ’ہم نے سوچا عید کے لیئے خرچہ چاہیئے جو اس کام سے نکل جائے گا ، جبکہ اس سے پہلے عید پر کبھی ایسا نہیں سوچا تھا‘۔

سترہ سالہ محمد سمیر عرف سونو کے والد کا انتقال ہوچکا ہے اور وہ سات سال کی عمر سے کڑہائی کا کام کرتا رہا ہے۔

سونو
دو ہفتے موبائل چرائے مگر پکڑے نہیں گئے: سونو

سونو نے بتایا ’فیکٹری سے واپسی کے وقت ہم کسی مسافر بس میں بیٹھے جاتے تھے اور جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل نکال لیتے تھے، ان دو ہفتوں میں کبھی پکڑے نہیں گئے‘۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بس میں ایک لڑکا کھڑا ہوکر مسافر کی جیب سے موبائل نکالتا تھا جبکہ دوسرا اس کے برابر میں کھڑا ہوتا تھا تا کہ لوگوں پر نظر رکھے سکے۔

انتہائی غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے ان نو عمر مجرموں سے لاک اپ میں ملاقات کرنے کے لیئے گھر والوں میں سے کوئی بھی نہیں آیا ہے۔ کاشف کے مطابق ’گھر والوں نے مجھے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ صحیح کام کیا تو پیچھے آئیں گے، برے کام میں پھنسو گے تو نہیں آئیں گے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا گھر والے اس کے عمل سے باخبر تھے تو کاشف نے بتایا کہ انہیں معلوم تو نہ تھا ’البتہ میں علاقے کے جن لڑکوں کے ساتھ گھومتا تھا وہ روکتے تھے‘۔

بارہ سے سترہ سال عمر ہونے کے باوجود یہ نو عمر لڑکے گٹکا کھانے سے لے کر چرس پینے تک کا نشہ کرتے ہیں اور بھارتی اداکار سنجے دت اور اکشے کمار ان کے پسندیدہ ہیرو ہیں جو ان کے مطابق اچھی فائٹ کرتے ہیں۔

گرفتار شدہ سترہ سالہ محمد فرید کی والدہ کو اس کے والد نے طلاق دے دی اور فرید نے ایک اور عورت کو ماں بنایا ہے جس کے پاس وہ رہتا تھا۔

امتیاز
ان مجرموں میں سب سے کم عمر امتیاز ہے جس کی عمر بارہ سال ہے

تین جماعتیں پاس فرید کے مطابق ’علاقے میں ایک جیب کترہ رہتا تھا جس کو دیکھ کر ہم سب جیب سے موبائل نکالنا سیکھ گئے‘۔ مگر پولیس کے مطابق یہ لڑکے تربیت یافتہ ہیں جو منظم طریقے سے یہ جرم کرتے ہیں۔

سب سے کم عمر بارہ سالہ امتیاز کے مطابق اس کا والد دونوں ٹانگوں سے معذور ہے اور ریڑھے پر فروٹ بیچتا ہے۔ امتیاز نے، جو غربت کی وجہ سے سکول نہیں جاسکا، بتایا کہ وہ گارمنٹ فیکٹری میں اوور لاک مشین چلانا سیکھ رہا ہے، ’تنخواہ تو نہیں ملتی دو سو روپے ہفتہ ملتا ہے جو گھر دے دیتا ہوں اس میں سے والدہ کرایہ دیتی ہیں‘۔

گرفتار ہونے والے ان لڑکوں کے مطابق موبائل بیچنے سے جو پیسے ملتے تھے وہ تقسیم نہیں کیے جاتے تھے وہ اکٹھے کھاتے پیتے تھے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے کراچی چوری کے موبائل کی فروخت اور خریداری کی ایک بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے چوری اور چھینے گئے موبائل کی خریداری کی روک تھام کے لیئے دکانداروں پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ موبائل بیچنے اور خرید کرنے والے کے قومی شناختی کارڈ کی کاپی لے کر رکھیں اور سٹیزن پولیس لیزان کمیٹی سے تصدیق کروائیں مگر کچھ دکاندار اس پر عمل نہیں کرتے۔

ان نو عمر مجرموں سے موبائل خریدنے والے دکاندار محمد اعظم کا کہنا ہے کہ ’میں نے لڑکوں سے آٹھ موبائل خریدے جن میں سے چار بیچ چکا تھا جبکہ چار پولیس کے پاس ہیں‘۔

فرید
سترہ سالہ فرید کے والدین میں طلاق ہوچکی ہے

محمد اعظم کا کہنا ہے کہ اس نے ان نو عمر لڑکوں سے شناختی کارڈ کی کاپی دینے کے لیئے کہا تھا جو انہوں نے فراہم نہیں کی۔ ’اگر مجھے پتہ ہوتا کہ یہ موبائل فون چوری کے ہیں تو کبھی نہیں لیتا‘ محمد اعظم نے قسم اٹھاتے ہوئے کہا۔

واضح رہے کہ ان لڑکوں کی عمر ابھی شناختی کارڈ بنوانے کی نہیں ہے۔ کراچی میں سی پی ایل سی کے مطابق گزشتہ نو ماہ میں بیالیس ہزار موبائل چھینے گئے ہیں۔ روزانہ ایک سو موبائل چھینے یا چوری کیے جارہے ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد موبائل کی چوری یا چھیننے کی اطلاع پولیس کو نہیں دیتی۔

کراچی شہری پولیس کے سربراہ نیاز صدیقی بتاتے ہیں کہ پولیس موبائل کرائم کے خلاف مؤثر کارروائی کر رہی ہے۔ صرف گزشتہ ڈیڑھ ہفتے میں سات سو موبائل فون برآمد کیے گئے ہیں، جبکہ دو سو مجرم گرفتار ہوئے ہیں اور چار مقابلے میں مارے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عید میں لوگوں کو جلد تنخواہیں ملتی ہیں اور ہر کوئی خریداری کے لیئے نکلتا ہے خاص کر خواتین، بچے اور بوڑھے آسانی سے مجرموں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اگر ان جرائم پر کنٹرول نہ کیا جائے تو کنٹرول سے نکل جاتا ہے۔

گرفتار نو عمر موبائل چوروں کو لاک اپ میں عادی مجرموں کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق آئندہ ایک دو روز میں انہیں جونائیل جیل بھیجا جائے گا تاکہ ان کی اصلاح ہوسکے ورنہ یہ خطرناک مجرم بن سکتے ہیں۔ مگر کرمنالاجی کے ماہرین کا ماننا ہے اکثر کوئی بھی ایک مرتبہ مجرم بن کر جیل گیا ہے تو واپس بڑا مجرم ہی نکل کر واپس آیا ہے۔

اسی بارے میں
عید: زلزلہ زدگان بھولنے لگے
11 January, 2006 | پاکستان
لیاری: ارشد پپوگرفتار
11 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد