BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 November, 2007, 15:34 GMT 20:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات میں حصہ نہیں لوں گا:شوکت

شوکت عزیز، مشرف
شوکت عزیز پہلے وزیرِ خزانہ اور پھر وزیراعظم مقرر ہوئے تھے
پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے سنیچر کو ایک نیوز کانفرنس میں آئندہ عام انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

سنیچر کو پاکستانی اخبارات میں یہ خبر نمایاں طور پر شائع ہوئی ہے کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت یافتہ جماعت مسلم لیگ (ق) نے سابق وزیراعظم شوکت عزیز کوٹکٹ دینے سے انکار کر دیا ہے۔

تاہم سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدی شجاعت نے سنیچر کو مشترکہ نیوز کانفرنس میں ان خبروں کی تردید کی تاہم شوکت عزیز نے یہ اعلان کیا کہ وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ’میں نے ذاتی فیصلہ کیا ہے کہ میں ان انتخابات میں حصہ نہیں لوں گا‘۔

انہوں نے کہا کہ’میں مسلم لیگ کا کارکن ہوں اور رہوں گا اور پاکستان میں رہ کر ہی ملک کی خدمت کروں گا‘۔ شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ’میری پارٹی نے مجھے سات آٹھ حلقوں سے الیکشن لڑنے کی پیشکش کی تھی لیکن میں چاہتا تھا کہ آٹھ سال کی دن رات محنت کے بعد کچھ آرام کیا جائے‘۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے ٹکٹ کے حصول کے لیے کوئی درخواست نہیں دی تھی اور یہ غلط ہے کہ پارٹی نے انہیں ٹکٹ دینے سے انکار کیا۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ مسلم لیگ (ق) پہلے ہی بیشتر نشستوں پر امیدواروں کو ٹکٹ دے چکی تھی اور ان میں شوکت عزیز کا نام نہیں تھا اور ان حلقوں میں بھی امیدوار کھڑے کر دیے گئے تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں سے شوکت عزیز انتخاب لڑنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔

آٹھ سال کام کیا، اب آرام
 میری پارٹی نے مجھے سات آٹھ حلقوں سے الیکشن لڑنے کی پیشکش کی تھی لیکن میں چاہتا تھا کہ آٹھ سال کی دن رات محنت کے بعد کچھ آرام کیا جائے۔
شوکت عزیز

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ شاید یہی وجہ ہے کہ شوکت عزیز نے انتخاب میں حصہ لینے سے انکار کیا۔ مسلم لیگ(ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت نے بھی سنیچر کو بھی نیوز کانفرنس میں ان خبروں کی تردید کی کہ شوکت عزیز کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شوکت عزیز ان کی جماعت کے فعال رہنما ہیں اور یہ کہ سابق وزیر اعظم نے ٹکٹ کے لیے کوئی درخواست نہیں دی تھی لیکن اس کے باوجود جماعت نے متفقہ طور پر ان کو کئی حلقوں سے انتخاب لڑنے کی پیشکش کی تھی۔

شوکت عزیز اور چوہدری شجاعت کا موقف اور وضاحتیں اپنی جگہ لیکن ان وضاحتوں سے یقیناً اس بارے میں مزید شکوک و شبہات پیدا ہوں گے کیونکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ممالک کی سیاست میں ایسا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ اتنے بڑے سیاسی عہدے پر پہنچنے والے کسی شخص نے اتنی جلد پارلیمانی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی ہو۔

اسی بارے میں
الیکشن وسط فروری تک: مشرف
08 November, 2007 | پاکستان
پی سی او اور مشرف کے مقاصد
08 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد