BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 November, 2007, 16:00 GMT 21:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایمرجنسی کو ختم کرناچاہتا ہوں‘

پاکستان میں اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے تین نومبر کو ایمرجنسی عائد کر دی تھی

پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے اعلان کیا ہے کہ وہ سولہ دسمبر کو ملک سے ایمرجنسی اور عبوری آئینی حکم (پی سی او) کے خاتمے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ادھر مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ عدلیہ کی دو نومبر والی پوزیشن کی بحالی کے بغیر ہونے والے الیکشن کا حصہ نہیں بنیں گے اور اتحادی جماعتوں امیدوار اپنے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیں گے۔ جبکہ پی پی پی کی چئر پرسن بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ وہ احتجاج کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیں گی۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے پی سی اور ایمرجنسی کے خاتمے کا اعلان بطور سویلین صدر حلف اٹھانے کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ’میں سمجھتا ہوں کہ حالات اب بہتر ہو گئے ہیں، انتظامیہ اب صحیح پٹری پر چل رہی ہے اور دہشتگردی پر قابو پایا جا چکا ہے۔ اب میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں ایمرجنسی سولہ دسمبر کو اٹھانا چاہتا ہوں تا کہ انتخابات انتہائی منصفانہ اور شفاف انداز میں ہوں‘۔

اپنی تقریر میں ایمرجنسی کے نفاد کی وکالت کرتے ہوئے صدر مشرف کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ مجبوری میں کیا کیونکہ’حالات غیرمعمولی تھے جو غیرمعمولی اقدامات کے متقاضی تھے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’ جمہوریت کی بحالی کے تیسرے مرحلے کو میری نظر میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پٹڑی سے اتارا جا رہا تھا۔ پارلیمان نے مجھے ستاون فیصد ووٹ کے ساتھ منتخب کیا اور اسے روکنے کی کوشش کی جا رہی تھی‘۔

 قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ صدر نے ایمرجنسی اٹھانے کے لیے جس تاریخ کا اعلان کیا ہے وہ عام انتخابات کے شیڈول کے مطابق امیدواروں کی جانب سے کاغذات واپس لینے کے ایک دن بعد کی ہے۔

انہوں نے میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاد کی وجہ بننے والے حالات کو میڈیا کے کچھ عناصر نے مزید بھڑکایا اور اس قسم کے حالات’میری نظر میں ایک ناقابلِ قبول خطرہ تھے‘۔

اپنے خطاب میں صدر مشرف نے کہا کہ’ملک اب جمہوریت کی راہ پر واپس آ گیا ہے۔ میرا انتخاب قانونی طور پر جائز قرار دے دیا گیا ہے اور میں نے بحیثیت صدر حلف لے لیا ہے۔ الیکشن کی تاریخ آٹھ جنوری رکھ دی گئی ہے اور میں اپنے وعدے کے عین مطابق چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے سے ریٹائر ہوگیا ہوں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بحالی کے علاوہ ملک میں ایمرجنسی کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف کامیابی ملی اور اب’دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور امن جلد ہی بحال ہو جائے گا‘۔

صدر مشرف نے کہا کہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی پاکستان واپسی سے پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) کو انتخابات کے حوالے سے مساوی مواقع دے دیے گئے ہیں اور اب یہ ان دونوں اور دیگر جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ الیکشن کی تیاری کریں اور اس میں حصہ لیں۔

اس سے قبل حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، صدر مشرف نے پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو اور مسلم لیگ(ن) کے سربراہ نواز شریف کی پاکستان واپسی کو سیاسی عمل کے لیے خوش آئند قرار دیا تھا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ دونوں سیاست دان نوے کی دہائی کے طرِز سیاست کو ترک کر کے مستقبل میں مفاہمتی سیاست کریں گے۔

 میں سمجھتا ہوں کہ حالات اب بہتر ہو گئے ہیں، انتظامیہ اب صحیح پٹری پر چل رہی ہے اور دہشتگردی پر قابو پایا جا چکا ہے۔ اب میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں ایمرجنسی سولہ دسمبر کو اٹھانا چاہتا ہوں تا کہ انتخابات انتہائی منصفانہ اور شفاف انداز میں ہوں۔
صدر مشرف

صدر نے ایک مرتبہ پھر اپنی فوجی کیرئر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج جو کچھ ہیں وہ پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان کی وجہ سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’مجھے فخر ہے کہ میں نے چھیالیس سال کی سروس اور نو سال چیف رہنے کے بعد یہ فوج چھوڑی ہے‘۔ صدر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ نئے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی قیادت میں فوج قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

اس سے قبل پرویز مشرف نے جمعرات کی صبح آئندہ پانچ سال کے لیے پاکستان کے صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ حلف برداری کی یہ تقریب ایوان صدر میں ہوئی جس میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف سے حلف لیا۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ صدر نے ایمرجنسی اٹھانے کے لیے جس تاریخ کا اعلان کیا ہے وہ عام انتخابات کے شیڈول کے مطابق امیدواروں کی جانب سے کاغذات واپس لینے کے ایک دن بعد کی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر سیاسی جماعتوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ اگر وہ بائیکاٹ کرتی ہیں تو وہ ہنگامی حالت اٹھانے میں تاخیر بھی کر سکتے ہیں۔

ووٹ
403 Forbidden

Forbidden

You don't have permission to access /cgi-bin/vote.pl on this server.

نتائج عوامي رائے کي سو فيصد نمائندگي نہيں کرتے

جنرل پرویز مشرفصدر پھر صدر
چیف آف آرمی سٹاف کا دور اقتدار
مشرف اور سکیورٹی
شدت پسندی کی سیاسی مقابلے کا امکان
 لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعودفوج اور سیاست
’جنرل کیانی فوج کو سیاست سے الگ رکھیں‘
ریٹائرڈ جنرل بھول گئے
لفظ طاقتور جرنیل کے قابو میں نہیں آ رہے تھے
تیرے آنے کے بعد
نواز شریف کا آناجنرل مشرف کے لیے اچھا یا برا
ڈِیل کا مُوڈ نہیں لگتا
نواز شریف اور بینظیر بھٹو کی راہیں الگ؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد