BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 November, 2007, 07:06 GMT 12:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بینظیر نواز سے مفاہمتی سیاست کی امید‘

صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف آج رات آٹھ بجے سرکاری ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب بھی کریں گے

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے جمعرات کی صبح آئندہ پانچ سال کے لیے پاکستان کے صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری کی یہ تقریب ایوان صدر میں ہوئی جس میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف سے حلف لیا۔

حلف لینے کے بعد تقریب سے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے، صدر مشرف نے پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو اور مسلم لیگ(ن) کے سربراہ نواز شریف کی پاکستان واپسی کو سیاسی عمل کے لیے خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ دونوں سیاست دان نوے کی دہائی کے طرِز سیاست کو ترک کر کے مستقبل میں مفاہمتی سیاست کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’ بینظیر اور نوازشریف کی واپسی کا فیصلہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ میری واحد امید ان سے یہ ہے کہ وہ نوے کی دہائی والی سیاست نہیں دوہرائیں گے اور مہذب سیاست کو فروغ دیں گے‘۔ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کو ذاتیات سے بالاتر ہو کر کام کرنا چاہیے۔

صدر مشرف نے کہا کہ ملک میں انتخابات وقت پر ہوں گے اور کسی جماعت کے بائیکاٹ سے انتخابی عمل پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ’انہیں(الیکشن کو) کوئی نہیں روک سکتا۔ اب یقینی بنانا ہے کہ وہ صاف و شفاف ہوں‘۔ تاہم اپنے خطاب میں صدر نے ہنگامی حالت کے خاتمے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔

انتہائی سنجیدہ موڈ میں تقریر کرتے ہوئے صدر مشرف نے ایک مرتبہ پھر معزول چیف جسٹس کا نام لیتے ہوئے ان پر ملک میں جمہوریت کی بحالی کے منصوبے کی راہ میں روڑے اٹکانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے اسے ایک سوچی سمجھی سازش کا نام بھی دیا۔

عدلیہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے معزول ججوں پر عوامی تقریبات میں اپنی تنقید کا سلسلہ جاری رکھا۔ ’بدقسمتی سے عدلیہ کے چند عناصر جن میں سابق چیف جسٹس شامل ہیں جمہوریت کے تیسرے مرحلے کو روکنا چاہتے تھے۔ میرے تمام وعدوں اور اعلانات کے باوجود یہ سازش جاری تھی۔ اس سازش کا منفی اثر انتظامیہ پر ہو رہا تھا‘۔

صدر کا کہنا تھا کہ یہ غیرمعمولی حالات تھے جو غیرمعمولی اقدامات کے متقاضی تھے۔ ’میرے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ مجھے ذاتی طور پر ان اقدامات کی خواہش نہیں تھی‘۔

صدر مشرف نے پندرہ نومبر کو حسب وعدہ وردی نہ اتارنے پر افسوس کا اظہار کیا تاہم اس کے لیے بھی معزول چیف جسٹس کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے اپنے کے انتخاب سے متعلق نوٹیفیکشن جاری کرنے پر نئی سپریم کورٹ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

صدر نے ایک مرتبہ پھر اپنی فوجی کیرئر کے خاتمے پر افسوس کیا تاہم تقریب میں موجود نئے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو مخاطب کرکے ان کی تعریف کی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ فوج قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

ایوان صدر کے مرکزی ہال میں منعقدہ اس تقریب میں نگران ویر اعظم میاں محمد سومرو، نئے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی، گورنر، نگران وزرائے اعلٰی، وفاقی وزراء، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین، سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے علاوہ بڑی تعداد میں سفارت کاروں نے شرکت کی۔تاہم حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے رہنما تقریب میں دکھائی نہیں دیے۔

فوجی کمان کی منتقلی
جنرل(ر) مشرف کے بدھ کو فوج کی کمان جنرل کیانی کے سپرد کر دی تھی

صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف جمعرات کی رات آٹھ بجے سرکاری ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب بھی کریں گے۔ اس خطاب میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے آئندہ پانچ برسوں کے پروگرام کے علاوہ ہنگامی حالت کے اٹھانے کے بارے میں بھی کوئی اعلان کریں گے۔ بطور سویلین صدر یہ ان کا قوم سے پہلا خطاب ہوگا۔

صدر پرویز مشرف کے لیے دوبارہ صدر منتخب ہونے کا عمل انتہائی مشکل ثابت ہوا ہے۔ حزب اختلاف کے شدید احتجاج اور استعفوں کے باوجود وہ ستاون فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے، ان کے انتخاب اور کاغذات نامزدگی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا جس پر عدالت نے انتخابی کمیشن کو ان کے انتخاب کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا۔

بعد ازاں تین نومبر کو ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد ججوں کو ہٹا دیا گیا اور جنرل پرویز مشرف کے جاری کردہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والی سپریم کورٹ نے صدر کے عہدے کے لیے ان کے دوبارہ انتخاب کو جائز قرار دے دیا۔

تاہم ان کا صدر کے عہدے کے لیے انتخاب اب بھی متنازعہ ہے کیونکہ قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان کے دستور کے تحت کسی بھی دوسرے سرکاری ملازم کی طرح جنرل پرویز مشرف ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال تک کسی آئینی عہدے کے حقدار نہیں۔

ووٹ
403 Forbidden

Forbidden

You don't have permission to access /cgi-bin/vote.pl on this server.

نتائج عوامي رائے کي سو فيصد نمائندگي نہيں کرتے

جنرل اشفاق پرویز کیانی مشرف کے نائب جنرل
تجربہ کار کور کمانڈر، آئی ایس آئی اور اب سربراہ
تیرے آنے کے بعد
نواز شریف کا آناجنرل مشرف کے لیے اچھا یا برا
وردی کے بغیر مشرف
اب دینے والے نہیں مانگنے والے ہوں گے
سیّد بادشاہ کا کارڈ
اپوزیشن فوجی دانش کا شکار ہو جائے گی
جنرل مشرفآٹھ سال بعد بھی
سب سے پہلے پاکستان، پر اس سے پہلے ’میں‘
ڈِیل کا مُوڈ نہیں لگتا
نواز شریف اور بینظیر بھٹو کی راہیں الگ؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد