مشرف سویلین صدر بن گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے آئندہ پانچ سال کے لیے پاکستان کے صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری کی یہ تقریب ایوان صدر میں ہوئی جس میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف سے حلف لیا۔ جنرل پرویز مشرف کے جاری کردہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والی سپریم کورٹ صدر کے عہدے کے لیے ان کے دوبارہ انتخاب کو جائز قرار دے چکی ہے۔ ان کا صدر کے عہدے کے لیے انتخاب اب بھی متنازعہ ہے کیونکہ قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان کے دستور کے تحت کسی بھی دوسرے سرکاری ملازم کی طرح جنرل پرویز مشرف ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال تک کسی آئینی عہدے کے حقدار نہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر جنرل پرویز مشرف کے نافذ کردہ پی سی او کے تحت وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد خود جنرل پرویز مشرف نے ان سے پی سی او کے تحت حلف لیا تھا۔
اٹارنی جنرل آف پاکستان ملک محمد قیوم نے گزشتہ روز کہا تھا کہ پرویز مشرف 1973ء کے آئین کے تحت آئندہ پانچ سالوں کے لیے صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ تاہم قانونی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت جبکہ خود جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے آئین کو معطل کررکھا ہے، اسی معطل آئین کے تحت ان کا حلف اٹھانا ان کے صدارتی انتخاب کی طرح ایک نئے قانونی تنازعے کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ یاد رہے کہ جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ روز فوجی عہدہ چھوڑ دیا تھا اور اپنی وہ وردی اتار دی تھی جسے وہ اپنی کھال کہتے تھے۔ وہ نو سالوں تک فوج کے سربراہ رہے اور اس دوران آٹھ سال تک ملک کے اقتدار کے بھی مالک بنے رہے۔ اس طرح وہ جنرل ضیاء الحق کے بعد سب سے لمبے عرصے تک ملک پر راج کرنے والے فوجی سربراہ رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||