BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 November, 2007, 10:42 GMT 15:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کاغذات کی جانچ پڑتال شروع

 کاغذات نامزدگی جمع ہو گئے
پیر کو ملک بھر میں کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی
پاکستان میں عام انتخابات کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا کام شروع ہو گیا ہے اور یہ عمل تین دسمبر تک جاری رہے گا۔

عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف انتخابات کا بائیکاٹ کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے۔

پیر کو ملک بھر میں کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی اور امیدوار رات بارہ بجے تک کاغذات جمع کرا سکتے تھے۔ شاید اِسی وجہ سے پیر کے روز ریٹرننگ افسروں کے دفتروں میں غیرمعمولی گہما گہمی دیکھنے میں آئی۔

صوبہ پنجاب
لاہور سے ہمارے نمائندے احمد نور نے بتایا کہ لاہور میں قومی اسمبلی کے لیے دو سو تریسٹھ کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے۔ لاہور سے کاغذات جمع کروانے والوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن اور فرزانہ راجہ شامل ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کاغذات جمع کرانے والوں میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز، پنجاب کے سابق وزیر اعلٰی شہباز شریف اور مخدوم ہاشمی شامل ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ( ق) کے میاں محمد اظہر، ہمایوں اختر خان اور کشمالہ طارق شامل ہیں۔

صوبہ سرحد
پشاور سے عبدالحئی کاکڑ نے بتایا ہے کہ قومی اسمبلی کی آٹھ نشستوں کے لیے اٹھاسی امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے۔ ان میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، پاکستان پیپلز پارٹی شیرپاؤ کے قائد اور سابق وزیر آفتاب احمد خان شیرپاؤ، جمیعت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمٰن، عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفندیار ولی خان اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے پشاور کے صدر امیر مقام شامل ہیں۔

لاہور میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد اپنے کاغذات نامزدگی پھاڑ دیے

صوبہ سندھ
کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ سندھ میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے لیے ایک ہزار سات سو سے زائد امیدواروں نے کاغذ نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ اس مرتبہ کئی نئے چہرے بھی سامنے آرہے ہیں۔

قومی اسمبلی کی پچہتر اور صوبائی اسمبلی کی ایک سو اڑسٹھ نشستوں کے لیے پیر کی شب بارہ بجے تک کاغذات نامزدگی وصول کیےگئے۔

لاڑکانہ میں فنکشنل مسلم لیگ کی جانب سے رافع اکبر راشدی کو قومی اور صوبائی کی نشستوں سے امیدوار نامزد کیا گیا ہے، رافع اکبر راشدی نامور بیوروکریٹ اور کمپیئر مہتاب اکبر راشدی کی فرزند ہیں۔ لاڑکانہ سے ہی مرتضیٰ بھٹو کی بیگم غنویٰ بھٹو پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں وہ بینظیر بھٹو کے مدمقابل ہیں۔

شکارپور کے صوبائی حلقے سے کیپٹن شہریار مہر مسلم لیگ (ق ) کے امیدوار ہیں، جو سابق وزیر غوث بخش مہر کے بیٹے ہیں۔

جیکب آباد کے قومی حلقے سے نگران وزیر اعظم محمد میاں سومرو کی بہن ملیحہ ملک مسلم لیگ (ق) کی امیدوار ہیں جبکہ ان کے چچا سابق سپیکر الہی بخش سومرو مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہیں۔

ٹنڈواللہ یار سے مسلم لیگ (ق) کی جانب سے ادیبہ مگسی صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں پر امیدوار ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے کراچی میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں کے لیے نامور کمپیئر خوش بخت شجاعت اور آرتھو پیڈک ڈاکٹر محمد علی شاہ امیدوار ہوں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے عام نشستوں پر سب سے زیادہ خواتین امیدوار نامزد کی گئی ہیں۔ پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے امیدوار ہیں، نوابشاہ سے ان کی نند عذرا پیچوہو قومی اسمبلی کی نشست پر امیدور ہیں۔ ٹنڈواللہ یار سے شمشاد بچانی قومی اسمبلی کے لیے امیدوار نامزد ہیں جبکہ بدین سے فہمیدہ مرزا اور ٹھٹہ کے صوبائی حلقے سے سسی پلیجو امیدوار ہیں۔

صوبہ بلوچستان
کوئٹہ سے ایوب ترین کی رپورٹ کے مطابق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور پونم کے مرکزی صدر محمود خان اچکزئی نے احتجاجاً عام انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ مسلم لیگ میں اختلافات کی وجہ سے سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں۔

کاغذات نامزدگی وصول جانے کے دوران وکلاء اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے رہے ہیں

صوبائی الیکشن کمیشن کے مطابق بلوچستان سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے700سے زیادہ امیدوار پیر کی رات گئے تک کاغذات نامزدگی جمع کرا چکے تھے۔ان میں میر ظفر اللہ خان جمالی، دو سابق گورنر سید فضل آغا اور ریٹائرڈ جنرل عبدالقادر بلوچ سمیت سابق وزر ءاعلیٰ میں جام محمد یوسف ،نواب ذوالفقار علی مگسی کے علاوہ ڈپٹی چئرمین سینٹ میر جان محمد جمالی شامل ہیں۔

دوسری جانب آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ اور متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعتوں کے درمیان بھی اختلافات واضح ہوگئے ہیں کیونکہ جے یو آئی کی جانب سے صوبائی امیر مولانا محمد خان شیرانی ایم ایم اے کی بجائے اس بار جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ جمعیت کے مرکزی رہنماء حافظ حسین احمد جمعیت کی بجائے ایم ایم اے کے ٹکٹ پر کوئٹہ چاغی سے قومی اسمبلی کے لیے امیدوار ہیں۔

ان اختلافات کے باعث ایم ایم اے نے صوبائی سطح پر ژوب سے جمعیت علمائے اسلام کے ایک مرکزی رہنماءمولوی عصمت اللہ کو مولانا محمد خان شیرانی کے مقابلے میں لاکر کھڑا کردیا ہے اس کے علاوہ قلعہ سیف اللہ ، لورالائی ، پشین اور چمن میں بھی شیرانی گروپ کے مقابلے میں مولوی عصمت اللہ گروپ کے امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں۔

سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی آزاد حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں

ادھر پونم میں شامل تمام جماعتوں نے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹرعبدالحئی بلوچ سمیت بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے کئی امیدوار میدان میں آگئے ہیں جبکہ پونم کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے یہ کہہ کر انتخاابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں آئین کی معطلی اور ایمر جنسی کے دوران انتخابات میںحصہ لینا ملک و قوم سے غداری ہے۔ تاہم ان کی پارٹی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے محمود خان اچکزئی کے دو بھائی ڈاکٹر احمد خان اچکزئی اور ڈاکٹرحامد خان اچکزئی قومی و صوبائی اسمبلی کے لیے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

اسی طرح سابق وفاقی وزیر سردار فتح محمد حسنی مسلم لیگ ق سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جو2002ء میں پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے۔ سردار فتح محمد محمد حسنی اس وقت بیرون ملک چلے گئے تھے جب1999ء میں جنرل پرویز مشرف بے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد ان کے خلا ف نیب کے تحت بد عنوانی کے مقدمات قائم کر دیے تھے تاہم دو سال قبل نہ صرف ان کو پاکستان بلاکر مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب کر دیا گیا بلکہ ان کے خلاف نیب کے تمام مقدمات بھی سرد خانے میں چلے گئے۔

قوم پرستوں سے اپیل
 بلوچ لبریشن آرمی نے تمام بلوچ قوم پرستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حالیہ انتخابات میں حصہ نہ لیں، باالخصوص کوہلو سے صوبائی اسمبلی کے لیے بالاچ مری کی خالی نشست پر کسی امیدوار کو قبول نہیں کیا جائےگا

دوسری جانب مسلم لیگ (ق) میں اختلافات واضح ہوگئے ہیں اور سابق وزیراعظم میر ظفرا للہ جمالی نے مسلم لیگ (ق) کی بجائے آزاد حیثیت سے کاغذات جمع کرائے ہیں اور ا ن کے قریبی رشتہ دار سابق صوبائی وزیر عبدالرحمن جمالی کو مسلم لیگ ق نے ٹکٹ جاری کرکے ان کے مقابلے میں کھڑا کردیا ہے۔ اس طرح آٹھ سال تک جنرل مشرف اور مسلم لیگ ق کی حکومتوں میں بحیثیت وفاقی وزیر خدمات سرانجام دینے والی بلوچستان کے علاقے تربت سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزیر زبیدہ جلال کو بھی مسلم لیگ ق نے ٹکٹ نہیں دیا ہے اور حالیہ انتخابات میں وہ آزاد حیثیث سے حصہ لے رہی ہیں۔

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر ذوالفقار علی مگسی بھی اس مرتبہ صوبائی اسمبلی کی اس نشست پر کھڑے ہوگئے جس پر گزشتہ انتخابات میں ان کے بھائی طارق مگسی کامیاب ہوئے تھے۔ کوہلو ڈیرہ بگٹی کی نشست پر اس بار نوابزادہ چنگیز مری کے علاوہ نواب بگٹی کے سخت مخالف میر ہمدان بگٹی نے بھی مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ اس نشست پر گزشتہ انتخابات میں نواب بگٹی کے حمایت یافتہ حیدر بگٹی کامیاب ہوئے تھے۔

نواب اکبر بگٹی کی جماعت جمہوری وطن پارٹی کی جانب سے براہمداغ گروپ اور طلال گروپ نے ڈیرہ بگٹی سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع نہیں کیے ہیں۔ بقول طلال بگٹی کے ان حلقوں پر حکومت نے ایجنسیوں کے لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نامزد کیا ہے۔

دریں اثناء بلوچ لبریشن آرمی نے تمام بلوچ قوم پرستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حالیہ انتخابات میں حصہ نہ لیں، باالخصوص کوہلو سے صوبائی اسمبلی کے لیے بالاچ مری کی خالی نشست پر کسی امیدوار کو قبول نہیں کیا جائےگا۔ واضح رہے کہ اس نشست پر بالاچ مری کے بڑے بھائی چنگیز مری نے پیر کو کاغذات نامزدگی جمع کر دیے ہیں۔

سینیٹ کے موجودہ ڈپٹی چیئرمین میر جان محمد جمالی نے بھی صوبائی اسمبلی کی نشست پر کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے ہیں اور وہ ق لیگ کی طرف سے صوبائی وزیراعلیٰ کے امیدوار ہیں۔

اسی بارے میں
عام انتخابات آٹھ جنوری کو
20 November, 2007 | پاکستان
نواز اپوزیشن کی اپیل پر واپس
26 November, 2007 | پاکستان
بینظیر کا الیکشن کمشن کو خط
26 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد