نواز اپوزیشن کی اپیل پر واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کی وطن واپسی پر حکومت نے قدرے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے تاہم سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم کا کہنا ہے کہ انہیں حزب اختلاف کے مطالبے پر آنے دیا گیا ہے۔ ’حزب اختلاف کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی غرض سے آنے دیا جائے لہذا حکومت نے یہ اجازت دی ہے۔‘ سرکاری ٹی وی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کسی ڈیل سے انکار کیا تاہم انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ان انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور بیلٹ کے ذریعے تبدیلی کی کوشش کریں۔
ادھر، سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کی واپسی سے مسلم لیگ (ق) پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ایک سوال کے جواب میں کہ آیا ق لیگ سے کچھ لوگ ن لیگ کی جانب نقل مکانی تو نہیں کریں گے، تو ان کا جواب تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ ’بےفکر رہیں آپ۔‘ تاہم انہوں نے نواز شریف کی واپسی کو سیاست کے لیے ایک اچھا شگون قرار دیا ہے۔ |
اسی بارے میں سابق وزرائے اعظم بینظیر، نواز شریف، چودھری شجاعت انتخابی میدان میں 26 November, 2007 | پاکستان ’ڈیل وِیل نہیں، عدلیہ بحال کریں‘26 November, 2007 | پاکستان اخباروں میں نواز شریف چھائے رہے26 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||