BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 November, 2007, 10:45 GMT 15:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سابق وزرائے اعظم بینظیر، نواز شریف، چودھری شجاعت انتخابی میدان میں

بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کی دد نشستوں سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں

سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو نے پیر کے روز لاڑکانہ، سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف نے لاہور جبکہ پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے گجرات سے قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے۔

پیر کو ملک بھر میں کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ ہے اور امیدوار رات بارہ بجے تک کاغذات جمع کرا سکتے ہیں۔ شاید اِسی وجہ سے پیر کے روز ریٹرننگ افسروں کے دفتروں میں غیرمعمولی رش دیکھنے میں آیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار نثار کھوکھر کے مطابق بینظیر بھٹو نےلاڑکانہ میں اپنے آبائی حلقے این اے دو سو چار کے لئے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے وقت کمرہِ عدالت میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میڈیا میں یہ تاثر غلط ہے کہ لوگ قومی مفاہمت سے ناخوش ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام ان پر اعتماد کرتی ہے اس لئے ان کے ہر قدم پر وہ خوش ہے۔‘

پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ آئندہ انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کررہی اور انتخابات میں حصہ لےرہی ہے۔

نواز شریف
نواز شریف گزشتہ رات ہی اپنی سات سالہ جلا وطنی کے بعد واپس لاہور پہنچے تھے
بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی واپسی قومی مفاہمت کے تحت ہوئی ہے اور وہ پاکستان میں انہیں خوش آمدید کہتی ہیں۔

پاکستان کے معزول ججوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ججوں سے تیس نومبر تک گھر خالی کرانا کوئی اچھا قدم نہیں ہوگا۔ مگر انہوں نے ججوں کی بحالی کا مطالبہ کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ جمہوری حکومت آنے کے بعد سب کے ساتھ انصاف ہوگا۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ امریکہ کا پاکستان کی اندرونی سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے مگر دنیا کے دوسرے ممالک میں جس طرح امریکی سفارتخانے متحرک رہتے ہیں اسی طرح پاکستان میں بھی امریکی سفیر سیاستدانوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

بینظیر نے کہا کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکی جنگ ہے اوراس کی بھاگ دوڑ پاکستانی آمروں کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے ہم اس میں حصہ کیوں لیں؟ انہوں نے کہا کہ’ میں نے عوام کو یہ بتایا کہ یہ امریکی مفاد کی نہیں پاکستانی مفاد کی جنگ ہے۔ سوات، پاڑہ چنار میں سرگرم انتہا پسند پاکستان کو نقصان پہنچانےکی کوشش کر رہے ہیں امریکہ کو نہیں۔‘

دو دن بعد جنرل کیانی کے چیف آف آرمی سٹاف بننے کے بارے میں بینظیر بھٹو نےکہا کہ پاکستانی سیاست میں دو دن کا وقت بہت ہوتا ہے اور کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے اپنے حلقے کے حوالے سے کہا کہ جب وہ پہلی مرتبہ لاڑکانہ سے انتخابات میں حصہ لینے آئی تھیں تو وہ ان کی طالبِ علمی کا زمانہ تھا مگر اب وقت بدل گیا ہے۔ ان کے اور ان کے رفقاء کے بچے اب بڑے ہورہے ہیں مگر لاڑکانہ کے عوام کی ان کےلئے محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

چودھری شجاعت حسین
چودھری شجاعت حسین گجرات اور سیالکوٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں
بینظیر بھٹو بعد میں لاڑکانہ کے دوسرے حلقے این اے دو سو سات سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کے لئے شہداد کوٹ کےلئے روانہ ہوگئیں۔ مقامی پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا ایک بڑا جلوس ان کے ہمراہ ہے۔ اس سے پہلے جب وہ ریٹرننگ آفیسر کے دفتر پہنچیں تو کارکنوں نے وزیرِاعظم بینظیر کے نعرے لگا کر ان کا استقبال کیا۔

لاہور سے ہمارے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف لاہور میں قومی اسمبلی کے ایک حلقے سے کاغذات نامزدگی جمع کرا رہے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں واقع اپنی ذاتی رہائش گاہ میں پہلی بار آمد کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کی مقررہ مدت سے محض ایک دن قبل پاکستان آنے کے باعث انہیں موقع نہیں مل سکا اس لئے وہ اب اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ نہیں چاہتے لیکن موجودہ حکومت نے اپوزیشن اور عوام کو بالکل دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے۔ اور اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو ان کے پاس بائیکاٹ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

میاں نواز شریف نے مطالبہ کیا کے تین نوبر کے تمام اقدامات کو واپس لیا جائے۔ جن میں ایمرجنسی کا خاتمہ، ججوں کی بحالی اور ایک ایسی عبوری نگران حکومت شامل ہے جس میں حزبِ اختلاف کی مشاورت شامل ہو اور اس کی رائے کو اہم سمجھا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیر پگاڑا بزرگ ہیں ان سے کوئی جھگڑا نہیں لیکن مسلم لیگ قاف سے اتحاد کے بارے میں نہیں سوچا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر مسلم لیگ (ق) کے لوگ معافی مانگیں تو انہوں نے کہا اس کا فیصلہ انفرادی معاملے پر کیا جائے گا۔ ’جنہوں نے دھوکا نہیں دیا، جنہوں نے پیٹھ میں خنجر نہیں مارا یا جو مخالفت کی حدتک نہیں گئے ان کے لئے راستے کھلے ہیں۔‘

اس سوال کے جواب میں کے پہلی بار آمد پر انہیں واپس بھیج دیا گیا تو اب وہ کیسے آئے ؟ نواز شریف نے کہا جنرل مشرف نے پوری کوشش کی تھی کہ نواز شریف انتخابات سے پہلے نہ آسکے اور ان کا دورہء سعودی عرب بھی اسی مقصد کے لئے تھا۔ لیکن سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کو اس بات کا ادراک تھا کہ نواز شریف کا پاکلستان میں بہت اہم کردار ہے۔ اور یہ ان کا اپنا ملک ہے۔ اور آزادانہ انتخابات کے لئے یہ ضروری تھا کہ نواز وطن واپس آتے۔

پاکستان مسلم لیگ (قائدِ اعظم) کے صدر چودھری شجاعت حسین نے گجرات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو پانچ سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جہاں پی پی پی کے چودھری احمد مختار ان کے مدِ مقابلِ ہوں گے۔

نواز شریفنواز شریف کی واپسی
ڈیل نہیں تو رویوں میں تبدیلی کیسے آئی؟
اعتزاز احسنانتخابی عمل کا آغاز
کاغذاتِ نامزدگی کی وصولی کا عمل جاری
اخباروں میں نواز
ہر اخبار میں نواز شریف آمد کی خصوصی کوریج
قاضی حسین احمدالیکشن لڑیں یا نہ؟
بائیکاٹ کے حوالے سے سیاسی مشورے
عمران خان’بائیکاٹ ہونا چاہیے‘
انتخابات سے پاکستان میں انتشار بڑھے گا
مولانا فضل الرحمٰن اپوزیشن مخمصے میں
انتخابات بائیکاٹ، اپوزیشن کی سوچ بچار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد