بینظیر کا الیکشن کمشن کو خط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد ماتحت عدلیہ میں کی جانے والی تقرریوں اور تبادلوں کو روک کر پرانی حالت میں لایا جائے۔ الیکشن کمیشن کو لکھے گئے ایک تفصیلی خط میں پیپلز پارٹی کی قائد بےنظیر بھٹو کا کہنا ہے کہ سندھ اور پنجاب میں انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد وسیع پیمانے پر سیشن ججوں، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں، مجسٹریٹ اور سول ججوں کے تبادلے ہوئے ہیں۔ پارٹی کے مطابق یہی عمل شاید بلوچستان اور سرحد میں بھی دوہرایا گیا ہے۔ بےنظیر بھٹو کا مطالبہ ہے کہ ان تبادلوں کو انتخابی شیڈول کے اعلان سے قبل والی صورت میں لایا جائے اور انتخابات کے مکمل ہونے تک تقرریوں اور تبادلوں پر پابندی پر عملدرامد کیا جائے۔ خط میں پیپلز پارٹی نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ پچیس ہزار بیلٹ حکومت کی جانب سے دی گئی ایک فہرست میں شامل قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کو قبل از وقت دیئے جائیں گے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کے پاس دیگر صوبوں کے اعداوشمار نہیں لیکن پنجاب میں مسلم لیگ (ق) کے ایک سو آٹھ امیدواروں کو یہ بیلٹ فراہم کیئے جائیں گے۔ پیپلز پارٹی نے اس مبینہ دھاندلی کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی لیےجماعت نے الیکشن کمیشن سے تمام ملک میں بیلٹ بکسوں کا یکساں رنگ، ان پر واضع نمبر اور یہ معلومات الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر مہیا کرنے کی مانگ بھی کی ہے۔ بےنظیر بھٹو اس خط سے قبل ذرائع ابلاغ کے سامنے بھی چند روز قبل انہی خدشات کا ذکر کر چکی ہیں۔ لیکن اب اس خط کے لکھنے سے بظاہر پیپلز پارٹی اپنے خدشات کو باقاعدہ طور پر الیکشن کمیشن کے نوٹس میں لائی ہے۔ تاہم ابھی انتخابی کمیشن کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ | اسی بارے میں شفاف انتخابات کی امید نہیں:بینظیر21 November, 2007 | پاکستان بینظیر، نواز نامزدگی کی تیاری22 November, 2007 | پاکستان ’امیدوار کاغذات جمع کرائیں‘22 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||