بائیکاٹ کا آپشن کھلا ہے: بینظیر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے حکومت پر آٹھ جنوری کے مجوزہ عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی بھی انتخابات کے بائیکاٹ کا ان کا آپشن کھلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی وجہ سے تمام سیاسی جماعتیں تاحال ایک نقطے پر متفق نہیں ہوسکیں اور اب بھی اگر تمام جماعتیں مستقبل کے لائحۂ عمل پر متفق ہوں تو انتخابات کا بائیکاٹ کیا جاسکتا ہے۔ اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں اپنی پارٹی کے منشور کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کی سربراہی میں آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومینٹ یعنی ’اے پی ڈی ایم‘ کا وفد ان سے ملنے آئے گا اور وہ ان سے انتخابات کے بائیکاٹ اور بعد کی حکمت عملی کے بارے میں بات کریں گی۔ بینظیر بھٹو نے کہا: ’انتخابات کا بائیکاٹ تو کرلیں لیکن آگے کیا کرنا ہے، مقصد کیا ہوگا، حکمت عملی کیا ہوگی اس بارے میں اتفاق رائے کرنا ہوگا۔‘ انہوں نے صدر پرویز مشرف کی جانب سے فوجی عہدہ چھوڑنے، آئین کی بحالی اور ایمرجنسی سولہ دسمبر کو ختم کرنے کے اعلانات کا خیرمقدم کیا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی بحالی اور انتخابات کو شفاف بنانے کی خاطر اب بھی پرویز مشرف کو بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
سابق وزیراعظم نے اس موقع پر جاری کردہ نئے منشور کی تفصیلات بھی بتائیں جس میں بنیادی نکتہ تو ان کا پرانا نعرہ ’روٹی کپڑا اور مکان‘ ہی دیا۔ لیکن انہوں نے دینی مدارس میں وسیع اصلاحات کرنے اور نوجوانوں کو روزگار کی سکیمیں شروع کرنے پر زیادہ زور دیا۔ انہوں نے توانائی کی ضروریات پوری کرنے سے لے کر ماحولیات کے شعبوں تک سب میں بنیادی تبدیلیاں لانے کے اعلانات کیے۔ بینظیر بھٹو سے جب برطرف ججوں کی بحالی کا سوال ہوا تو انہوں نے مبہم جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جب جمہوریت بحال ہوگی تو جمہوری حکومت برطرف ججوں کا معاملہ بہتر انداز میں حل کرسکتی ہے۔ تاہم انہوں نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت عبوری آئین کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کے کردار کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’کاروباری فوج‘ پاکستان کے مفاد میں نہیں اور فوج کے بڑھتے ہوئے کاروباری مفادات سے ان کی پیشہ ور صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج کے ’بزنس ایمپائر‘ پر نئے پارلیمان کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ اعتزاز احسن کی جانب سے انتخاب نہ لڑنے کے سوال پر بینظیر بھٹو نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہیں اور بہت قربانی دی ہے، ان کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، انہیں رہا کرنا چاہیے۔ انہوں نے پارٹی ٹکٹ مانگا اور پارٹی نے انہیں دیا اور جو بھی پارٹی میں رہتا ہے تو اُسے پارٹی پالیسی پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ ایک اور سوال پر صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیار کی مخالفت کی اور کہا کہ جنرل پرویزمشرف سے تین نومبر سے پہلے جو بات چیت ہو رہی تھی اس میں اس نکتے پر بھی بات چل رہی تھی۔ لیکن ان کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ اور آئین کی معطلی کے بعد انہوں نے مذاکرات ختم کردیے۔ سابق وزیراعظم نے کہا: ’میں سمجھتی ہوں کہ اسمبلی توڑنے اور منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا صدر کا اختیار جمہوریت کی ناکامی کا سبب ہے، اُسے ختم ہونا چاہیے۔‘ |
اسی بارے میں اکیلے بائیکاٹ نہیں :اے این پی30 November, 2007 | پاکستان الیکشن کا بائیکاٹ: نواز شریف29 November, 2007 | پاکستان 13,490 کاغذاتِ نامزدگی وصول30 November, 2007 | پاکستان عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک29 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||