BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 December, 2007, 11:28 GMT 16:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نواز الیکشن نہیں لڑ سکتے‘

شریف برادران
شہباز شریف نے بھی اپنے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے کو سیاسی قرار دیا تھا
پاکستان الیکشن کمیشن لاہور نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے ہیں۔

نواز شریف نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ ان کی نااہلی کا فیصلہ مشرف حکومت کی جانب سے ایک اور جارحیت ہے۔ ’مشرف کا کہنا تھا کہ مجھے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی لیکن اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ میں انتخاب میں حصہ لوں۔‘

سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اس فیصلے کے خلاف سات روز میں لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل کے سامنے اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ یہ اپیل ان ججوں کے روبرو ہو سکتی ہے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھا رکھا ہے۔

نواز شریف نے لاہور سے قومی اسمبلی کے صرف ایک حلقےاین اے 120 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔ اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ (قاف) کے امیدوار خواجہ طاہر ضیاء کے علاوہ صحافی شاہد اورکزئی اور اسلم ایڈووکیٹ نے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کیے تھے۔

انہوں نے کہا تھا سابق وزیر اعظم نواز شریف انتخابات لڑنے کے اہل نہیں ہیں کیونکہ ’وہ طیارہ سازش کیس اور ہیلی کاپٹر ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں جبکہ سپریم کورٹ حملہ کیس میں بھی ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ نواز شریف مختلف بینکوں کے نادہندہ بھی ہیں‘۔

ریٹرننگ آفیسر راجہ قمر الزمان نے سوموار کو ڈھائی گھنٹے تک طرفین کے وکلاء کے دلائل سنے اور تقریباً دو گھنٹے بعد فیصلہ سناتے ہوئے صحافی شاہد اورکزئی کا اعتراض مسترد کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف سپریم کورٹ پر حملہ کرنے کے معاملہ میں ملوث تھے۔جبکہ دیگر افراد کے دائر کردہ اعتراضات منظور کرتے ہوئے ریٹرننگ آفیسر نے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے۔
ریٹرننگ آفیسر نے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی سازش طیارہ کیس اور ہیلی کاپٹر ریفرنس میں سزاؤں کی بنیاد پر مسترد کیے ہیں۔

اس سے قبل نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل سپریم کورٹ حملہ کیس میں ملوث نہیں تھے اور نہ ہی اُن کو اس کیس میں سزا ہوئی ہے۔

نادہندگی کے حوالے سے خواجہ حارث نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر نادہندہ نہیں ہیں اور ان کے ذمے ایک پیسے کی بھی نادہندگی نہیں ہے اور وہ نادہندہ کے ذمرے میں نہیں آتے۔

خواجہ حارث کا موقف تھا کہ طیارہ سازش کیس اور ہیلی کاپٹر ریفرنس میں آئین کے آرٹیکل پینتالیس کے تحت نواز شریف کو رہا کیا گیا تھا۔ اس لیے آئین کے آرٹیکل پینتالیس کے تحت وہ سزا یافتہ کے زمرے میں بھی نہیں آتے۔

پاکستان مسلم لیگ (قاف) کے خواجہ طاہر ضیاء کے وکیل بیرسٹر نذیر شامی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم سزا یافتہ اور نادہندہ ہیں اس لیے انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔

ریٹرننگ آفیسر نے لاہور کے قومی اسمبلی کے انتخابی حلقے ایک سو بیس میں پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر بدر، مسلم لیگ (قاف) کے امیدوار خواجہ طاہر ضیاء اور متحدہ مجلس عمل کے حافظ سلمان بٹ کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے ہیں۔

معاہدے میں کیا ہے؟
جلاوطنی کے معاہدے کے متن کی تلخیص
جلاوطنی کے معاہدے کا عکستصاویر میں
نواز شریف اور حکومت کے معاہدے کا عکس
شہباز شریفقربانیوں کا سودا
کیا ڈیل 12 اکتوبر سے پہلے کا آئین بحال کریگی
اسی بارے میں
واپسی کی سماعت 16 اگست کو
09 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد