’شفاف الیکشن وگرنہ بائیکاٹ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف کے دو بڑے اتحادوں اے پی ڈی ایم اور اے آر ڈی نے عام انتخابات میں شرکت کے لیے حکومت کو اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے وقت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں بائیکاٹ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ زرداری ہاؤس میں منعقد ہونے والے تین گھنٹوں سے زیادہ وقت تک مذاکرات کے اختتام پر اے آر ڈی (ایلائنس فار دی ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی) کی رہنماء بےنظیر بھٹو اور اے پی ڈی ایم ( آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ) کے رہنماء نواز شریف نے اس بات کا اعلان ایک اخباری کانفرنس میں کیا ہے۔ دونوں اتحادوں کے چار چار نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو حکومت کو پیش کرنے کے لیے اگلے دو سے تین روز میں ’چارٹر آف ڈیمانڈ‘ تیار کرے گی۔ جس کی منظوری کے لیے حکومت کو انتخابات سے قبل کی ایک ڈیڈ لائن دی جائے گی۔ کمیٹی میں اے آر ڈی کی جانب سے رضا ربانی، صفدر عباسی، ملک نوید اور عبدالقدیر شامل ہوں گے جبکہ اے پی ڈی ایم کی نمائندگی اسحاق ڈار، احسن اقبال، عبدالرحیم مندوخیل اور پروفیسر خورشید کریں گے۔ کمیٹی چار دسمبر سے اپنا کام شروع کر دے گی۔ دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ان مطالبات کی منظوری کی صورت میں ہی صاف، شفاف اور منصفانہ انتخابات ممکن ہوسکیں گے۔ تاہم منظور نہ ہونے کی صورت میں بائیکاٹ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ’بال اب صدر مشرف کے کورٹ میں ہے‘۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان ملاقات وطن واپسی کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔ مذاکرات میں بےنظیر بھٹو کی معاونت مخدوم امین فہیم، رضا ربانی اور فرحت اللہ بابر نے کی جبکہ نواز شریف کے ساتھ راجہ ظفر الحق، چوہدری نثار اور جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ شریک تھے۔ زرداری ہاؤس آنے سے پہلے نواز شریف نے قاضی حسین احمد سے ملاقات کی تھی۔ نواز شریف بے نظیر بھٹو سے ملاقات کے بعد حزب مخالف کے ایک اور رہنماء مولانا فضل الرحمان سے بھی ملاقات کرینگے۔ فضل الرحمان انتخابات میں حصہ لینے کے حامی ہیں۔ اس سے قبل پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترکی کے صدر عبداللہ گل نے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی تھی۔
انتخابات میں شرکت یا بائیکاٹ کے بارے میں پیپلز پارٹی کی حکمتِ عملی ابھی زیادہ واضح نہیں ہے اگرچہ بینظیر بھٹو یہ عندیہ دے چکی ہیں کہ وہ انتخابی عمل میں شریک ہونا چاہتی ہیں۔ جمعہ کو پیپلز پارٹی کی سربراہ نے حکومت پر مجوزہ عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اب بھی بائیکاٹ کا آپشن کھلا ہے۔ نواز شریف سپریم کورٹ کے ججوں کی ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد معزولی کو بائیکاٹ کی وجہ بنانا چاہتے ہیں اور ذرائع کے مطابق وہ بے نظیر بھٹو کو بھی اسی بنیاد پر بائیکاٹ کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان بھی پی سی او کے تحت معزول کیے گئے ججوں کی بحالی کی بجائے عدلیہ کی آزادی کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ جو انہیں قائل کرنے کے لیے آئے تو وہ خود بھی قائل ہونے کی گنجائش لے کر آئے۔ ان کی جماعت متحدہ مجلس عمل کی دوسری اہم پارٹی جماعت اسلامی کو انتخابات میں حصہ لینے پر ابھی تک آمادہ نہیں کر سکی ہے۔ دونوں جماعتوں نے اب حتمی فیصلہ پندرہ دسمبر تک ملتوی کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کا آٹھ جنوری کے عام انتخابات میں حصہ لینا صدر جنرل (ریٹائرڈ) مشرف اور ان کی منتخب کردہ نگران حکومت کے تحت ہونے والے انتخابات کی بین الاقوامی سطح پر ساکھ بڑھا دے گا۔
پیر کی صبح امریکی سفیر این پیٹرسن نے نواز شریف سے ان کے ’رائےونڈ فارم ہاؤس‘ میں ملاقات کی۔ نواز شریف کے پولٹیکل سیکرٹری پرویز رشید نے بی بی سی کو اس ملاقات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ امریکی سفیر نے صدر جارج بش کے نواز شریف کے حوالے سے حالیہ بیان کی وضاحت کی۔ یاد رہے کہ چند دن قبل امریکی صدر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کو حیرت ہے کہ پاکستان میں ایک لیڈر موجود ہے جس کو دنیا کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔ پرویز رشید نے کہا کہ امریکی سفیر نے اس بیان کو غلط فہمی قرار دیا اور کہا کہ نواز شریف پاکستان کے مقبول لیڈر ہیں اور ان کی سیاسی جماعت پاکستان میں اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی غیر جانبدار اداروں کے سروے کے مطابق بھی نواز شریف پاکستان کے مقبول لیڈر ہیں۔ | اسی بارے میں بائیکاٹ پرنظرثانی کریں: فضل الرحمان30 November, 2007 | پاکستان نواز اور شہباز پر انتخابی اعتراضات30 November, 2007 | پاکستان نواز شریف، بینظیر ملاقات پیر کو01 December, 2007 | پاکستان ’حتمی بائیکاٹ کا فیصلہ اجلاس میں‘01 December, 2007 | پاکستان میں بنیاد پرست نہیں: نواز شریف02 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||