’خدا کے لیے وکلاء کا ساتھ دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس خواجہ محمد شریف کا کہنا ہے کہ جس دن جسٹس افتخار چودھری کو رہا کر دیا گیا اسی دن ملک میں ججوں کی بحالی کی تحریک عروج پر پہنچ جائے گی۔ معزول جسٹس خواجہ محمد شریف نے ڈیفنس میں واقع پر اپنی رہائش گاہ پر بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت’چیف جسٹس اور باقی ججوں سے اس قدر خوف زدہ ہے کہ انہیں نظر بند رکھا گیا ہے‘۔ان کے بقول چیف جسٹس کی نظربندی ختم ہوتے ہی وکلاء کی تحریک عروج پر پہنچ جائےگی۔ انہوں نے کہا کہ’جہاں تک ججوں کی بحالی پر سیاسی جماعتوں کے موقف کی بات ہے تو تین سیاسی جماعتوں تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ نواز کا موقف بالکل ٹھیک ہے جبکہ پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو اپنا موقف تبدیل کرتی رہتی ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ دن پہلے تک جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا موقف بالکل عدلیہ کے خلاف تھا لیکن بعدازں اب انہوں نے یہ کہا کہ عدلیہ پر شب خون مارا گیا ہے۔ جسٹس خواجہ شریف نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ’خدا کے لیے وکلاء کا ساتھ دیں، وکلاء بڑی قربانی دے رہے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی ساکھ نہیں ہے جبکہ چیف جسٹس نے اپنے خلاف ریفرنس کے بعد اسلام آباد سے لاہور تک چار گھنٹوں کا سفر چوبیس گھنٹوں سے زائد وقت میں طے کیا کیونکہ ان کی عوام میں ساکھ تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اعلیْ عدلیہ کے ججوں کو ان کے منصب سے صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول حکومت نے ججوں کو عہدے سے ہٹانے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ غیرقانونی اور غیرآئینی ہے۔ آئندہ پارلیمنٹ سے ججوں کی بحالی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ نگران حکومت غیر جانبدار نہیں ہے اور انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوگی جس کی اس سے پہلے پاکستان میں مثال نہیں ملے گی۔ ان کے بقول اگر آئندہ پارلیمنٹ نے صدر کے اقدامات کو تحفظ نہ دیا تو صدر اس اسمبلی کو تحلیل کر دیں گے۔ جسٹس خواجہ شریف کا کہنا ہے کہ ملک جب آئین اور قانون کی حکومت قائم ہوگی تو وہ جج جنہوں نے عبوری آئینی حکم کے تحت حلف نہیں لیا وہ تمام جج اپنے عہدوں پر بحال ہو جائیں گے۔ ان کے بقول’اگر خدا نخواستہ ایسا نہ ہوا تو ملک میں سو سال تک انصاف نہیں ملے گا‘۔ | اسی بارے میں ’اپنے حصہ کا چراغ روشن کر دیا ہے‘04 November, 2007 | پاکستان ’جسٹس افتخار سے نہیں مل سکتے‘06 December, 2007 | پاکستان نواز حلف نہ لینے والے ججوں کے گھر27 November, 2007 | پاکستان اب تک 48 ججوں نےحلف لیا ہے05 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||