نواز حلف نہ لینے والے ججوں کے گھر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ جب تک عدلیہ بحال نہیں ہوجاتی وہ وردی اتارنے سمیت صدر مشرف کے کسی اقدام کو تسلیم نہیں کریں گے چاہے نگران وزیراعظم ان کے چھوٹے بھائی ہی کو کیوں نہ بنا دیا جائے۔ یہ بات انہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھا نے والے ججوں کے گھر جاکر ان سے ملاقات کے دوران کہی۔ سابق وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کے جج خلیل الرحمان رمدے، ہائی کورٹ کے جج خواجہ شریف سے ڈیفنس میں ان کے گھر جاکر ملاقات کی اور انہیں پھول اور مٹھائی پیش کی۔ جسٹس خواجہ شریف سے ملاقات کےدوران نواز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پرویزمشرف چاہے وردی اتارکر سویلین صدر بن جائیں، ایمرجنسی یا مارشل لاء اٹھالیں اور چاہے عبوری سیٹ اپ ختم کرکے خود نواز شریف کے مرضی کےنگران وزیر اعظم کو تعینات کردیں وہ اس وقت تک صدر مشرف کے کسی اقدام کو تسلیم نہیں کریں گے جب تک عدلیہ تین نومبر سے پہلی والی پوزیشن پر نہیں چلی جاتی اور تمام جج بحال نہیں ہوجاتے۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس اور افتخار محمد چودھری نے ملک و قوم کی خاطر قربانی دی ہے، ان کے عہدے ختم کیے گئے اور انہیں نظر بند کیا گیا لیکن وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔ نواز شریف نے جسٹسں خلیل الرحمان رمدے اور جسٹس خواجہ شریف کو گلے لگا کر خراج تحسین پیش کیا۔
نواز شریف نے توقع ظاہر کی کہ ایک دو ہفتوں میں تمام جج بحال ہوجائیں گے۔ نواز شریف کے ہمراہ شہباز شریف اور سابق صدر رفیق تارڑ اور کالم نویس عطاالحق قاسمی بھی موجود رہے۔ جسٹس خواجہ شریف نے انہیں ہار پہنائے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پہلے ججوں کو نظریہ ضرورت کا طعنہ دیا جاتا تھا لیکن اب ساٹھ ججوں نے پی سی کے تحت حلف نہ اٹھا کر اپنا کردار ادا کر دیا ہے لیکن اب سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا نہیں کر رہیں۔ جسٹس خواجہ شریف نے کہا کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ کا موقف عدلیہ کی بحالی کے بارے میں واضح ہے جبکہ بے نظیر بھٹو نے بھی کہا ہے ان کے آئین کی بحالی سے مراد عدلیہ کی بحالی بھی ہے۔اس کے بعد نواز شریف سپریم کورٹ کے جج خلیل الرحمان رمدے کے گھر گئے، جہاں انہوں نے کم وبیش وہی باتیں دہرائیں۔ انہوں نے کہا کہ’اگر صدر مشرف میرے بھائی شہباز شریف کو بھی نگران وزیر اعظم بنا دیں تو تب بھی میں عدلیہ کے بحالی کے بغیر ان کے اقدامات کو تسلیم نہیں کروں گا۔‘ سپریم کورٹ کے جج خلیل الرحمان رمدے نے نواز شریف کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ وہ ایک کمزور انسان ہیں لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمت، حوصلہ اور توفیق دی کہ وہ حق اور سچ کو جانچ کر فیصلہ کریں۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھا نے والے جج خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ نومارچ کے بعد وکلاء نے جس طرح حق کی خاطر قربانیاں دیں، تشدد کو برداشت کیا اور جیلیں کاٹیں وہ قابل تحسین ہیں۔انہوں نے اپنا روزگار بند کر رکھا ہے اور بچوں کا خیال کرنے کی بجائے حق، ایمان اور پاکستان کی بات کر رہے ہیں جو بے حد قابل قدر ہے۔ انہوں نے میڈیا کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کا ایمان ہے کہ قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں۔ نواز شریف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن سے ملاقات کے لیے ان کے گھر بھی گئے۔ تاہم انہیں اعتزاز احسن سے ملنے نہیں دیا گیا البتہ ان کی اہلیہ بشری اعتزاز سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اعتزاز احسن کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیکر انہیں وہیں نظر بند رکھا گیا ہے اور ججوں کی طرح ان سے ملاقات پر بھی پابندی ہے تاہم سابق وزیر اعظم کو ان سے ملنے دیاگیا۔ نوازشریف نے کہا کہ اعتزاز احسن قوم کے ہیرو ہیں اور قومی اسمبلی کے لیے وہ نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ مسلم لیگ نواز کے بھی امیدوار ہیں۔ صحافیوں نے نواز شریف سے پوچھا کہ کیا ان کی پارٹی اعتزاز کے خلاف اپنا امیدوار کھڑا نہیں کرے گی؟ تو نواز شریف نے کہا کہ جب اعتزاز خود مسلم لیگ نون کے امیدوار ہیں تو ان کے خلاف امیدوار کیسے کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس نے انہیں کہا تھا کہ ججوں اور اعتزاز سے ملاقات پر پابندی ہے لیکن نواز شریف نے یہ پابندی ماننے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ اگر ان کی گاڑیاں روکی گئیں تو وہ پیدل جائیں گے۔ پروگرام کے مطابق وہ صحافیوں سے اظہار یک جہتی کے لیے جیو ٹی وی چینل کے دفتر بھی گئے اور لاہور پریس کلب میں بھی صحافیوں سے بات کی۔ |
اسی بارے میں بینظیر، نواز شریف انتخابی میدان میں 26 November, 2007 | پاکستان نواز اپوزیشن کی اپیل پر واپس26 November, 2007 | پاکستان مشرف سعودی دورے سے واپس21 November, 2007 | پاکستان بینظیر، نواز نامزدگی کی تیاری22 November, 2007 | پاکستان نواز کی واپسی آئندہ چند دن میں:ہاشمی23 November, 2007 | پاکستان APDM کی کال پر احتجاج، گرفتاریاں23 November, 2007 | پاکستان ’نواز شریف نومبر میں پھر واپس‘15 October, 2007 | پاکستان نواز شریف کی دوسری واپسی09 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||