بینظیر، نواز شریف انتخابی میدان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو نے پیر کے روز لاڑکانہ، سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف نے لاہور جبکہ پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے گجرات سے قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے۔ پیر کو ملک بھر میں کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ ہے اور امیدوار رات بارہ بجے تک کاغذات جمع کرا سکتے ہیں۔ شاید اِسی وجہ سے پیر کے روز ریٹرننگ افسروں کے دفتروں میں غیرمعمولی رش دیکھنے میں آیا ہے۔ ہمارے نامہ نگار نثار کھوکھر کے مطابق بینظیر بھٹو نےلاڑکانہ میں اپنے آبائی حلقے این اے دو سو چار کے لئے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے وقت کمرہِ عدالت میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میڈیا میں یہ تاثر غلط ہے کہ لوگ قومی مفاہمت سے ناخوش ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام ان پر اعتماد کرتی ہے اس لئے ان کے ہر قدم پر وہ خوش ہے۔‘ پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ آئندہ انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کررہی اور انتخابات میں حصہ لےرہی ہے۔
پاکستان کے معزول ججوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ججوں سے تیس نومبر تک گھر خالی کرانا کوئی اچھا قدم نہیں ہوگا۔ مگر انہوں نے ججوں کی بحالی کا مطالبہ کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ جمہوری حکومت آنے کے بعد سب کے ساتھ انصاف ہوگا۔ بینظیر بھٹو نے کہا کہ امریکہ کا پاکستان کی اندرونی سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے مگر دنیا کے دوسرے ممالک میں جس طرح امریکی سفارتخانے متحرک رہتے ہیں اسی طرح پاکستان میں بھی امریکی سفیر سیاستدانوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ بینظیر نے کہا کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکی جنگ ہے اوراس کی بھاگ دوڑ پاکستانی آمروں کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے ہم اس میں حصہ کیوں لیں؟ انہوں نے کہا کہ’ میں نے عوام کو یہ بتایا کہ یہ امریکی مفاد کی نہیں پاکستانی مفاد کی جنگ ہے۔ سوات، پاڑہ چنار میں سرگرم انتہا پسند پاکستان کو نقصان پہنچانےکی کوشش کر رہے ہیں امریکہ کو نہیں۔‘ دو دن بعد جنرل کیانی کے چیف آف آرمی سٹاف بننے کے بارے میں بینظیر بھٹو نےکہا کہ پاکستانی سیاست میں دو دن کا وقت بہت ہوتا ہے اور کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے حلقے کے حوالے سے کہا کہ جب وہ پہلی مرتبہ لاڑکانہ سے انتخابات میں حصہ لینے آئی تھیں تو وہ ان کی طالبِ علمی کا زمانہ تھا مگر اب وقت بدل گیا ہے۔ ان کے اور ان کے رفقاء کے بچے اب بڑے ہورہے ہیں مگر لاڑکانہ کے عوام کی ان کےلئے محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔
لاہور سے ہمارے نامہ نگار احمد نور کے مطابق نواز شریف اور ان کے بھائی کارکنوں کے جلوس کے ہمراہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے ضلع کچہری پہنچے۔ ان کی پارٹی کے دیگر امیدواران نے بھی کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ میاں نواز شریف نے راجہ قمرالزماں کی عدالت میں این اے ایک سو بیس کے لیے کاغذات جمع کروائے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کےالطاف قریشی اور مسلم لیگ قاف کے خواجہ طاہر ضیاء نے ان کی مقابل امیدوار کے طور پر کاغذات جمع کروائے۔ شہباز شریف نے این اے ایک سو انیس سے کاغذات جمع کروائے ان کے مقابل امیدوار کے طور پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے والوں میں پیپلز پارٹی کے ذکریا بٹ اور مسلم لیگ قاف کے طارق بانڈے شامل ہیں۔ شہباز سریف نے حلقہ پی پی ایک سو اکتالیس کے لیے بھی کاغذات جمع کروائے ہیں۔ کلثوم نواز نے این اے ایک سو اٹھارہ سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے۔ پیپلز پارٹی کے سید آصف ہاشمی اور مسلم لیگ قاف کے میاں محمد اظہر نے ان کے مقابل امید وار کے طور پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے۔ حمزہ شہباز نے شہباز شریف اور کلثوم نواز کے متبادل امیدوار کے طور پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||