’جسٹس افتخار سے نہیں مل سکتے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ملک کے اداروں کو تباہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی ڈکٹیٹر اقتدار پر شب خون مارتا ہے تو ملک عدم استحکام کا شکار ہوجاتا ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ملاقات کے لیے ججز کالونی جانے کی کوشش کررہے تھے لیکن پولیس نے انھیں راستے میں روک لیا۔ جس پر بلوچستان ہاؤس کے باہر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سابق فوجی صدر جنرل ضیاءالحق کا نام لیے بغیر کہا کہ انہوں نے اقتدار پر قبصہ کرکے ملک کے ایک منتخب وزراعظم کو پھانسی لگادیا جبکہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ایک منتخب وزیر اعظم کو جلاوطن کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ نواز شریف نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ ملک کے چیف جسٹس کو ان کے گھر میں قید کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے اس غیر قانونی اقدام کو ہضم کرلیا تو وہ مزید غیر قانونی اقدام کریں گے جس سے ملک مشکلات کا شکار ہوجائے گا۔ سابق وزیر اعظم نے ان ججوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے پی سی اور کے تحت حلف لینے سے انکار کردیا۔ ن
تاہم وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے خاردار تاریں لگا کر ججز کالونی کی طرف جانے والے راستے بند کردیئے۔مظاہرین نے وہاں پر جنرل پرویز مشرف کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں سعودی عرب سمیت بیس سے زائد اسلام ممالک کے سفیروں سے ملاقات کی۔ نواز شریف نے سفیروں کو انتخابات آزاد اور شفاف نہ ہونے کے خدشے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے سفیروں سے درخواست کی کہ وہ اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں تاکہ پاکستان میں آزاد اور شفاف انتخابات کرائے جائیں اور ملک جمہوریت کی طرف گامزن ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ دو ہزار دو کے انتخابات میں ان کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے تھے جب کہ اس وقت وہ پاکستان میں موجود بھی نہ تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یا تو اس وقت کی عدلیہ کا فیصلہ غلط تھا یا پھر اس بار ان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل نہیں کریں گے کیونکہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے اور ان کو انصاف نہیں ملے گا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ امکان ہے کہ چارٹر آف ڈیمانڈ آج تیار ہو جائے گا اور تمام سیاسی جماعتیں متحد ہوں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||