جوہری اسلحہ، کتنا محفوظ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف کے اس حالیہ بیان کے بعد کہ پاکستان میں عدم استحکام کی صورت میں اس کا جوہری اسلحہ مذہبی عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے، مغربی دنیا کی تشویش تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ اور اب سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو بھی باور کرا رہی ہیں کہ عسکریت پسند سوات تک پہنچ گئے ہیں، کل وہ اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں ۔۔۔ اور کہوٹا اور جوہری ہتھیاروں پر ان کا قبضہ ہوسکتا ہے۔ تو کتنا محفوظ ہے پاکستان کا جوہری اسلحہ اور کیا امکان ہے کہ یہ ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھ لگ جائیں؟ اس تشویش کی عکاسی امریکہ اور برطانیہ کے ذرائع ابلاغ میں تقریباً روز ہی ہورہی ہے۔ امریکہ کی تشویش تو نئی نہیں لیکن ایسی کسی ممکنہ صورتحال سے بچنے اور پاکستان کے جوہری اسلحے کو ’محفوظ‘ بنانے کے لیے اس نے جو تیاری کر رکھی ہے، یا جن منصوبوں پر ماضی میں غور کیا گیا ہے، ان کی تفصیلات پہلی مرتبہ منظر عام پر آرہی ہیں۔ ممکنہ اقدامات مثال کے طور پر اگر امریکی فوج پاکستان بھیجنے کی نوبت آئی تو کتنی نفری درکار ہوگی اور کیا پاکستان کے جوہری ٹھکانوں کو ان کے چاروں طرف بارودی سرنگیں بچھا کر محفوظ بنایا جاسکتا ہے، یا ایسا کرنے سے صورتحال اور بگڑ جائے گی؟
مبصرین کے مطابق امریکہ کی تشویش نئی نہیں، اور اس نے پاکستان کے نیوکلیئر بنکروں کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے لاکھوں ڈالر کی امداد بھی دی ہے، لیکن ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے اس معاملے کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھا جارہا ہے۔ پاکستانی ردعمل لیکن پاکستان میں امریکہ کے سابق سفیر رابرٹ بی اوکلے کہتے ہیں کہ اس امکان سے سب پریشان ہیں کہ جوہری اسلحہ اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے اور جتنا اس خطرے پر غور کیا جاتا ہے، بات یہی ابھر کر سامنے آتی ہے کہ اس کا کوئی آسان یا سیدھا حل نہیں ہے۔ منصوبہ سازی کے عمل میں حصہ لینے والے ایک اہلکار نےواشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ صورتحال بے حد پیچیدہ ہے کیونکہ ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے طریقوں کا صرف جائزہ لینے سے بھی دہشت گردی کے مسئلے پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون متاثر ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق جو منصوبے ہیں بھی ان تک صرف امریکی فوج کی سنٹرل کمان کو رسائی حاصل ہے۔ متبادل تجاویز
اخبار دی گارڈین کے مطابق ان کی تجاویز میں امریکی اور برطانوی افواج کو پاکستان بھیجنا شامل ہے تاکہ ایسے جوہری اسلحہ کو، جس کی نقل وحمل ممکن ہو، پاکستان کے اندر یا نیو میکسیکو میں ایک محفوظ مقام پر پہنچانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان کی شمال مغربی سرحد پر طالبان اور القاعدہ کا مقابلہ کرنےاور پاکستانی فوج کی جانب سے درخواست کیے جانے کی صورت میں اس کی مدد کے لیے اسلام آباد تک امریکی فوج بھیجنے کے بھی حق میں ہیں۔ مسٹر کگان کے مطابق یہ ممکنہ صورتحال ہیں جن سے نمٹنے کے لیے امریکہ کو تیار رہنا ہوگا۔ مسٹر کگان پر یہ کہہ کر نتقید کی گئی ہے کہ وہ ایک اور اسلامی ملک کے خلاف فوجی جارحیت کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان میں سے کوئی بھی تجویز قابل عمل ہے؟ امریکی وزارت خارجہ کے ایک سابق اعلی اہلکار نے گارڈین کو بتایا کہ پاکستان پر حملہ نہیں کیا جاسکتا، ’ہمیں پاکستانی فوج کی مرضی سے ہی کام کرنا ہوگا‘۔ بہرحال پاکستان میں شدت پسندی کے ایک ماہر کا دعویٰ ہے کہ امریکی فوجی کمانڈروں نے مسٹر کگان کی تجاویزکو وار ایکسرسائزز یا فوجی مشقوں میں آزما کر دیکھا ہے، اور جو تنائج سامنے آئے وہ بہت پریشان کن تھے۔ پاکستان میں سی آئی اے کے سابق اسٹیشن چیف ملٹن بئرڈن کہتے ہیں کہ ان میں سے کچھ اقدامات کا فوری فائدہ اگر ہو بھی جائے، تو طویل مدت میں ان کا نقصان زیادہ ہوگا۔ ’جب آپ پاکستان کے جوہری اسلحے کو محفوظ بنانے کے لیے امریکی فوج بھیجنے کی بات کرتے ہیں، تو آپ ایک اور ملک پر چڑھائی کرنے کی بات کر رہے ہیں‘۔ پاکستان کے رٹائرڈ بریگیڈیر فیروز خان، جو سن 2001 تک جوہری ذخیرے کے تحفظ سے براہ راست وابستہ تھے، کہتے ہیں کہ انہوں نے امریکی حکومت کی مختلف ایجنسیوں میں ان مشقوں اور وار گیمز کے بارے میں سنا ہے اور یہ ’ انتہائی خطرناک‘ ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی فوج امریکی فوجی مداخلت کو ایک ’حقیقی خطرہ‘ تصور کرتی ہے اور اس نے جفاظتی اقدامات بھی کیے ہیں جن میں فرضی بنکروں کی تعمیر شامل ہے۔
امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی میں ماہر طبعیات ضیاء میاں جنوبی ایشیا میں اسلحے کے پھیلاؤ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں ’ امریکی کارروائی سے حالات اور زیادہ بگڑ سکتے ہیں‘۔ ’دوسرے نقصان تو ہوں گے ہی، امریکہ مخالف جذبات اور بڑھ جائیں گے‘۔ ایک سینئیر امریکی انٹیلی جنس افسر نے واشنگٹن پوسٹ کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ ’پاکستان کے اندر انتشار کی صورت میں ایک حلقہ اپنی طاقت منوانے کے لیے جوہری اسلحے کو اپنے کنٹرول میں لے سکتا ہے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کا بہت زیادہ خطرہ نہیں ہے اور اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان اس پورے معاملے کو ’بہت سنجیدگی سے لے رہا ہے‘۔ مبصرین کے مطابق تمام مطالعوں اور وار گیمز کے بعد امریکی حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ حکومت پاکستان اور خاص طور پر اس کی فوج کا تعاون برقرار رکھنا بے انتہا ضروری ہے۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی میں ترک اسلحہ کے ماہر سکاٹ سیگن کہتے ہیں کہ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر پاکستان فوج امریکی حملے کے امکان کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اپنے محفوظ بنکروں سے جوہری ہتھیار ہٹا کر دوسرے کم محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیتی ہے، تو ظاہر ہے کہ ان ہتھیاروں کے دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ رٹائرڈ برگیڈیر فیروز خان اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق پاکستانی اسلحہ بالکل محفوظ ہے اور اس کے ارد گرد سکیورٹی کے کئی دائرے ہیں۔ بہرحال، سفارت کار رابرٹ اوکلے کہتے ہیں کہ ’ جوہری ہتھیاروں کو محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ پاکستانی فوج سے قریبی تعاون رکھا جائے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ جوہری اسلحہ خطرے میں پڑ جائے تو پاکستانی فوج کو نشانہ بنانا اس کا بہترین طریقہ ہوگا‘۔ |
اسی بارے میں ’ڈاکٹر خان کی صحت بہتر ہے‘28 October, 2006 | پاکستان میزائیل حتف 5 کا کامیاب تجربہ16 November, 2006 | پاکستان جوہری تعاون پر پاک بھارت معاہدہ21 February, 2007 | پاکستان خوشاب میں تیسرا ری ایکٹر22 June, 2007 | پاکستان ’جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا خطرہ‘20 August, 2007 | پاکستان ’پاکستان جوہری پروگرام بڑھا رہا ہے‘24 July, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||