’پاکستان جوہری پروگرام بڑھا رہا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی تحقیقی ادارے نے سیارے سے لی گئی تصاویر شائع کی ہیں جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے یہ پاکستان کا ایک زیر تعمیر جوہری ریئکٹر کی ہیں۔ انٹسیٹیوٹ فارسائنس اینڈ انٹر نیشنل سکیورٹی نامی ادارے کے بقول خوشاب میں واقع اس ریئکٹر میں سالانہ چالیس سے پچاس ہتھیاروں کے لیئے پلوٹونیم پیدا کی جا سکتی ہے۔ ادارے کے مطابق اگر اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار بنانے کی اہلیت میں بہت بڑے پیمانے پر اضافہ ہو جائے گا جس سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں مزید تیزی آ جائے گی۔ واشنگٹن کے تحقیقی ادارے کے ماہرین کے مطابق خوشاب کی جوہری تنصیبات کی سیارے سے لی گئی تصاویر میں جو نامکمل عمارت نظر آتی ہے وہ بھاری پانی کا ایک ریئکٹر ہے جس میں سالانہ چالیس سے پچاس جوہری ہتھیار بنائے جا سکیں گے، یعنی پاکستان کی موجودہ صلاحیت سے بیس گنا زیادہ۔ یہ نامکمل عمارت پاکستان کے واحد پلوٹونیم بنانے والے ریئکٹر سے ملحق ہے۔ معمولی صلاحیت کا حامل پچاس میگا یونٹ کا یہ ریئکٹر سنہ انیس سو اٹھانوے سے کام کر رہا ہے۔تاہم تحقیقی ادارے کے ماہرین کے مطابق نئے ریئکٹر کے حدود اربعہ سے لگتا ہے کہ اس کی پیداواری صلاحیت ایک ہزار میگا واٹ یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت پاکستان کے پاس تیس سے پچاس تک یورینیم والے ہتھیار ہیں۔’یورینیم وار ہیڈز‘ زیادہ بھاری ہوتے ہیں جبکہ پلوٹونیٹ والے ہلکے ہوتے ہیں اس لیے ’پلوٹونیم وار ہیڈز‘ کو میزائل پر لگانا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ تاحال پاکستان نے مذکورہ رپورٹ پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے تاہم امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ ایک سینئر پاکستانی افسر نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ پاکستان اپنی جوہری صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے۔ افسر کا کہنا تھا ’پاکستان کا جوہری پروگرام اس سطح پر پہنچ چکا ہے جہاں سے ہم اسے آگے بڑھا کر مستحکم کر رہے ہیں۔‘ مذکورہ رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان گزشتہ دہائی سے جاری جوہری ہتھیاروں کی مسابقت کے بارے میں نئے سوالات جنم لے سکتے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سیارے سے حاصل کی جانے والی تصاویر کی بنیاد پر امریکی تحقیقی ادارے نے جو اندازے لگائے ہیں ان کی تصدیق دو غیر جانبدار جوھری ماہرین نے بھی ہے۔ ان ماہرین نے جو تصاویر دیکھی ہیں وہ ’ڈیجیٹل گلوب‘ نامی ایک پرائیویٹ ادارے سے خریدی جا سکتی ہیں۔ سلسلہ وار تصاویر کے مطالعے کے بعد تحقیقی ادارے کے ماہرین نے تخمینہ لگایا ہے کہ مذکورہ ریئکٹر کی تکمیل ہونے میں ’چند سال‘ لگ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمارت میں موجود سٹیل کے ڈھانچے کی ساخت سے لگتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا ریئکٹر ہوگا۔ | اسی بارے میں ’جوہری پھیلاؤ کی تحقیقات بند‘02 May, 2006 | پاکستان جوہری اعتمادسازی، اتفاقِ رائےنہ ہو سکا26 April, 2006 | پاکستان جوہری مذاکرات: مثبت ماحول 25 April, 2006 | پاکستان جوہری مواد، برآمد پر ضوابط سخت 27 December, 2005 | پاکستان جوہری بجلی کے پلانٹ پر کام شروع28 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||