’پاکستان تیسرا ری ایکٹر بنا رہا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ایک تھنک ٹینک نے دعوی ٰ کیا ہے کہ پاکستان صوبہ پنجاب کے علاقے خوشاب میں ایک طاقتور جوہری ری ایکٹر لگا رہا ہے جس سے پلُوٹونیم بھی حاصل ہوگا۔ تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ اس ری ایکٹر کی تعمیر سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی ایک اور دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔ انسٹیوٹ آف سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی نامی اس تھنک ٹینک کے ڈیوڈ آلبراٹ اور پال برینن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ری ایکٹر پر گزشتہ دس ماہ میں بڑی تیزی سے کام کیا گیا اور اب یہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، لیکن پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ اس ری ایکٹر کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جوکسی کے لیے فکرمندی کا باعث ہو۔ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں رپورٹ کے مصنف ڈیوڈ آلبراٹ کے مطابق اس ری ایکٹر کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کافی زیادہ ہو گی اور اس سے حاصل ہونے والے پلُوٹونیم سے عمدہ قسم کے جوہری ہتھیار بنائے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ معلومات خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے حاصل ہوئیں جن کی تصدیق بعد میں سیٹلائٹ سے اتاری جانے والی تصاویر سے کی گئی ہے۔ انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ ری ایکٹر کی تعمیر اور پاکستان کی دیگر جوہری مصروفیات سے ’لگتا ہے کہ‘ پاکستان نے ’جوھری ہتھیار بنانے کے لیے اپنی پلُوٹونیم کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ‘ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سیٹلائٹ سے حاصل کی گئی تصاویر سے پتا چلتا ہے کہ تیسرا ری ایکٹر بھی پہلے اور دوسرے ری ایکٹر جیسا ہے یعنی اس کا ڈھانچہ بھی ویسا ہی ہے۔ واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ سیٹلائٹ سے حاصل کیے گئے تصویری ثبوت سے معلوم ہوتا ہے کہ خوشاب میں ری ایکٹر کی تعمیر کا تقریباً سارا کام گزشتہ دس ماہ کے دوران ہوا ہے۔ ادارے کے مطابق خوشاب میں پہلے جوہری ری ایکٹر نے انیس سو اٹھانوے میں کام کرنا شروع کر دیا تھا جبکہ جولائی سنہ دوہزار چھ میں دوسرے ری ایکٹر پر کام جاری تھا۔ رپورٹ کے مطابق تیسرے ری ایکٹر پر جاری کام دوسرے ری ایکٹر سے کئی سو میٹر دور ایک مقام پر ہو رہا ہے۔ تِھنک ٹینک نے اس برس یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان نے خوشاب سے اسّی کلومیٹر دور چشمہ کے مقام پر پلُوٹونیم کے اپنے دوسرے ری ایکٹر پر کام دوبارہ شروع کر دیا ہے جہاں پلُوٹونیم کو الگ کرنے کی سہولت ہو گی۔ ادارے کی مطابق چشمہ کا ری ایکٹر اور خوشاب میں بنایا جا رہا تیسرا ری ایکٹر ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خوشاب کے جوہری ری ایکٹرز اور پلُوٹونیم کو علیحدہ کرنے والا ری ایکٹر دونوں اقوام متحدہ کے جوہری ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نظر سے باہر ہیں۔
مصنفین کے مطابق ہو سکتا ہے کہ پاکستان نے ’پلُوٹونیم سے بنائے جانے والے جوہری ہتھیار بنانے کا فیصلہ‘ کروز میزائیلوں کے لیے ہلکے جوہری ہتھیار بنانے یا بھارتی شہروں کی جانب نشانہ لیے ہوئے‘ ہتھیاروں کو بہتر بنانے کی غرض سے کیا ہو۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان جوہری مقاصد کے لیے زیادہ تر انتہائی افزودہ یورینیم استعمال کرتا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈیوڈ آلبرائٹ نے بتایا کہ یورینیم کی نسبت پلُوٹونیم سے بھرے ہتھیار کم وزن ہوتے ہیں اور زیادہ تباہی پھیلانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے ڈیوڈ آلبرائٹ نے کہا کہ پاکستان کے ’پلُوٹونیم پر انحصار سے ہمیں اخد کرنا چاہئیے کہ پاکستان ایسے ہلکے جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے جو ہندوستان میں بہت زیادہ تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔‘ رپورٹ میں امریکہ پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ خوشاب کے جوہری ری ایکٹر کے بارے میں کوئی شکایت نہیں کرتا کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس طرح ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ میں اس کا ایک بڑا حلیف ناراض ہو گا۔ ڈیوڈ آلبرائٹ نے کہا کہ ’ہمیں یہ بات سمجھ لینا چاہئیے کہ امریکہ ان ممالک کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے خاطر خواہ کوشش نہیں کر رہا اور اس نے نظریں دوسری جانب کی ہوئی ہیں۔‘ دوسری جانب پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ ’ کسی کو اس بات پر حیرت نہیں ہونا چاہیئے‘ کہ پاکستان اپنے جوہری پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ ’ہم ایک جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت والا ملک ہیں۔ خوشاب میں ہماری جوہری تنصیبات ہیں۔ اس پر کسی کو حیرت نہیں ہونا چاہیئے۔ ہم خطے میں جوہری ہتھیار متعارف کرانے والا پہلا ملک نہیں ہیں۔ ہمیں ہندوستان کے ساتھ روایتی یا جوھری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔‘ یاد رہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان جوہری معاہدے کے بعد پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی جوہری صلاحیت برقرار رکھے گا۔ پاکستان نے اپنا پہلا جوہری تجربہ سنہ ایس سو اٹھانوے میں ہندوستان کے جوہری تجربہ کے بعد کیا تھا تاہم ہندوستان نے ایٹمی بم کا پہلا تجربہ سنہ انیس سو چوہتر میں کیا تھا۔ |
اسی بارے میں پاک بھارت، جوہری فہرستوں کا تبادلہ01 January, 2007 | پاکستان جوہری تعاون پر پاک بھارت معاہدہ21 February, 2007 | پاکستان ’پاکستان جوہری پروگرام بڑھا رہا ہے‘24 July, 2006 | پاکستان پاکستانی ری ایکٹر پر رپورٹ مُسترد04 August, 2006 | پاکستان میزائیل حتف 5 کا کامیاب تجربہ16 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||