پاک بھارت، جوہری فہرستوں کا تبادلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور ہندوستان نے پیر کو نئی دہلی اور اسلام آباد میں نئے سال کے پہلے روز جوہری تنصیبات کی فہرست کا تبادلہ کیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے ذریعے جوہری تنصیبات کی فہرست کا یہ تبادلہ ایک دوسرے کی جوہری تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کے اس معاہدے کے تحت کیا گیا جو دونوں ممالک نے انیس سو اٹھانوے میں کیا تھا۔ اس معاہدے پر 31 دسمبر 1988 میں دستخط کیے گئے تھے اور اس پر عمل در آمد 27 جنوری 1991 سے شروع کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو ایک دوسرے کو اپنی اپنی جوہری تنصیبات سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اس قسم کی فہرست کا سب سے پہلا تبادلہ یکم جنوری 1992 میں کیا گیا تھا۔ اس سال یہ چھٹا موقع ہے کہ جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ جوہری تنصیبات سے متعلق فہرست کا تبادلہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں ’جوہری پروگرام متاثر نہیں ہوگا‘18 December, 2006 | انڈیا جوہری پروگرام آزاد ہے: منموہن سنگھ18 August, 2006 | انڈیا جوہری معاہدے پر صلاح و مشورہ16 August, 2006 | انڈیا پاکستان کا جوہری مستقبل ایک سوال03 March, 2004 | پاکستان جوہری تعاون جاری، نئی ڈیل نہیں24 November, 2006 | پاکستان چین، پاکستان جوہری معاہدہ متوقع23 November, 2006 | پاکستان ’پاکستان جوہری پروگرام بڑھا رہا ہے‘24 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||