پاکستانی ری ایکٹر پر رپورٹ مُسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں خوشاب جوہری ری ایکٹرسے متعلق واشنگٹن کے ایک تحقیقاتی ادارے کی حالیہ رپورٹ تنازعے کا شکار ہو گئی ہے اور امریکہ اور پاکستان نے اِسے مبالغے پر مبنی غلط رپورٹ قرار دیا ہے۔ انسٹیٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی کی متنازع رپورٹ میں سیٹلائیٹ تصاویر اور دیگر معلومات کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان ایک ایسے بڑے پلوٹونیم پلانٹ پر کام کر رہا ہے جس کے ذریعے وہ ہر سال چالیس سے پچاس جوہری بم بنانے کے قابل ہو جائے گا۔ پاکستان کے سفیر میجر جنرل ریٹائرڈ محمود علی درانی نے کہا ہے کہ پاکستان خوشاب میں ضرور نئے ری ایکٹر پر کام کر رہا ہے لیکن یہ منصوبہ اُس پیمانے کا نہیں جتنا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے۔ اخبار واشنگٹن ٹائمز کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستانی سفیر نے کہا کہ گو اس پلانٹ سے حاصل شدہ پلوٹونیم کو فوجی مقاصد کے لیئے استعمال کیا جا سکے گا لیکن بقول ان کے اس کا پیمانہ رپورٹ میں بڑھا چڑھا کر بتائے گئے اعداد و شمار سے کہیں کم ہے۔ پہلی بار امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے بھی کھُل کر رپورٹ کو غلط قرار دیا ہے۔ اخبار نیو یارک ٹائمز میں شائع بیان میں ترجمان فریڈرک جونز نے کہا کہ ہم اپنے ماہرین سے صلاح مشورے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ رپورٹ کا تجزیہ غلط ہے اور یہ کہ نیا پلانٹ دعووں کے برعکس قدرے چھوٹے پیمانے کا ہے۔ انسٹیٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی کی چوبیس جولائی کو منظرِ عام پر آنے والی رپورٹ نے عالمی سطح پر خاصی ہلچل پیدا کر دی تھی۔ حکومتِ پاکستان نے اُس وقت رپورٹ کے بارے میں کہا کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں اور پوری دنیا جانتی ہے کہ خوشاب میں پاکستان کی جوہری تنصیبات ہیں لیکن دفترِ خارجہ کی ترجمان تسلیم اسلم نے بار بارپوچھے گئے سوالوں کے جواب میں یہ بتانے سے قطعی انکارکیا کہ خوشاب میں بنایا جانے والا نیا پلانٹ کس پیمانے کا ہے ۔ امریکی محکمۂ خارجہ نےاُس وقت اپنے ابتدائی رد عمل میں کہا تھا کہ ہم خوشاب کے جوہری تنصیبات کے بارے میں بخوبی آگاہ رہے ہیں۔ بی بی سی کے رابطے کرنے پر، جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر نظر رکھنے والے اکثر ماہرین کا کہنا رہا کہ وہ یہ تو جانتے ہیں کہ پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی میں جوہری ہتھیار مرکزی اہمیت رکھتے ہیں ہے لیکن قوی طور پر وہ رپورٹ میں کیئے جانے والے دعووں کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ انسٹیٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی نے امریکی حکومت کی تنقید کے جواب میں کہا ہے کہ وہ اپنی رپورٹ کے تجزیئے اور اس کے نتائج پربدستور قائم ہے۔ ادارے کے صدر اور متنازعہ رپورٹ کے مصنف ڈیوڈ آلبرائٹ ہیں جو آج کل چھٹیوں پر یورپ میں ہیں۔ ان کے کام کو جوہری ہتھیاروں کے خلاف کام کرنے والے حلقوں میں معتبر تصور کیا جاتا ہے۔ اپنے ایک تازہ بیان میں ان کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے ماضی میں عالمی سطح پر خفیہ جوہری سرگرمیوں کا پتہ لگانے اور اُن کی روک تھام میں خاصی بُری کارکردگی دکھائی ہے۔ انہوں نے امریکی حکام کو چیلنج کیا کہ وہ ان کی رپورٹ غلط ثابت کرنے والے شواہد ان کے سامنے لائیں۔ | اسی بارے میں ’جوہری پلانٹ کا سب کو پتہ ہے‘24 July, 2006 | پاکستان ’پاکستان جوہری پروگرام بڑھا رہا ہے‘24 July, 2006 | پاکستان تابکاری کا خطرہ نہیں ہے: حکومت17 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||