BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 May, 2006, 16:59 GMT 21:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تابکاری کا خطرہ نہیں ہے: حکومت

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن
آگ ایٹمی تنصیبات کے قریب ہی جنگل میں لگی تھی
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ ڈیرہ غازی خان میں واقع ان کی تنصیبات کے قریب جنگل میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور وہاں کسی قسم کے تابکاری اثرات کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

یہ بات بدھ کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کمیشن کے ترجمان اعجاز احمد نے کہی اور بتایا کہ اگر تابکاری کے اثرات ہوتے تو ان کے وہاں موجود سینکڑوں ملازمین کب کا علاقہ چھوڑ دیتے۔

واضح رہے کہ پیر کے روز صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع ڈیرہ غازی خان میں واقع یورینیم ملنگ پلانٹ کے قریب جنگل میں آگ لگ گئی تھی۔

انہوں نے آگ لگنے کی کوئی ٹھوس وجہ تو نہیں بتائی لیکن انہوں نے کہا کہ جنگل میں آگ لگنے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک وجہ شدید گرمی کے موسم میں درختوں سے نکلنے والا وہ خصوصی مواد بھی ہوسکتا ہے جو پینتالیس سے پچاس ڈگری کی گرمی میں آگ پکڑ لیتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس آگ کی وجہ ضروری نہیں کہ یہ ہی ہو۔


جوہری تنصیبات کے قریب جنگل میں آگ لگنے کے بارے میں تخریب کاری کے سوال پر انہوں نے کہا کہ تاحال انہیں اس بارے میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ تاحال آتشزدگی کے اس واقعہ کے بارے میں عالمی جوہری ادارے نے ان سے وضاحت طلب نہیں کی لیکن ان کے مطابق پاکستان انہیں اس بارے میں ضرورت پڑنے پر مکمل معلومات فراہم کردے گا۔

ادھر جوہری کمیشن نے اس بارے میں ایک وضاحتی بیان بھی جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈیرہ غازی خان میں واقع ان کی ایک سائٹ کے قریب جھاڑیوں میں آگ لگنے کے بعد بجھا دی گئی۔

بیان کے مطابق کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’یہ بات مکمل اعتماد کے ساتھ کی جارہی ہے کہ آگ پر مکمل طور پر قابو پالیا گیا ہے اور یہ آگ جوہری کمیشن کی تنصیبات اور رہائشی کالونی سے خاصی دور لگی تھی۔

ان کے مطابق اس آگ لگنے کی وجہ سے کوئی شخص زخمی نہیں ہوا البتہ چند درخت اور جھاڑیاں اس میں جھلس گئی ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں آس پاس کے علاقے اور جوہری کمیشن کے ملازمین کی حفاظت کے بارے میں عوامی تشویش کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

واضح رہے کہ اس آگ کے متعلق اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی میں فزکس کے سابق پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ نیّر نے تابکاری کے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

ڈاکٹر نیّر کا کہنا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں اٹامک انرجی کمیشن کا یورینیم مِلنگ پلانٹ یعنی یورینیم صاف کرنے کا کارخانہ ہے۔

صفائی کے اس عمل میں جو فضلہ بنتا ہے وہ انتہائی تابکار ہوتا ہے اور اسے مسلسل پانی کے تالابوں میں، جنہیں ’لیچنگ پاؤنڈز‘ کہا جاتا ہے، رکھنا پڑتا ہے تاکہ اس کے ذرات ہوا میں شامل ہو کر قریبی علاقوں میں نہ پھیل جائیں۔

ڈاکٹر نیّر کہتے ہیں کہ ڈیرہ غازی خان ایک انتہائی گرم علاقہ ہے جہاں لیچنگ پاؤنڈز میں پانی کی مقررہ مقدار کو برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔اس صورتحال میں آگ اور اس کا دھواں تابکار مادوں کو اڑا کر دور دور تک لے جاسکتا ہے جو کہ ایک خطرناک بات ہے۔

پروفیسر نیّر کا کہنا تھا کہ اب یہ اٹامک انرجی کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تمام آبادیوں کا ’تابکاری سروے‘ کروائے جہاں جہاں یورینیم مِلنگ پلانٹ کے جنگل کو لگنے والی آگ کا دھواں اور راکھ ذرات کو اڑا کر لے جا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے بغلچور میں اٹامک انرجی کمیشن کی طرف سے جوہری فضلہ ڈمپ کرنے کے حوالے سے مقامی آبادی میں پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے اور اب یورینیم صاف کرنے والے کارخانے کے قریب آگ لگنے کے واقعہ نے لوگوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

ایٹمی فضلے والی سرنگجوہری مسائل
ڈی جی خان کی سرنگ میں ایٹمی فضلہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد