اٹامک انرجی: آگ بجھا لی گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیرہ غازی خان میں قائم پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ایک سینٹر اور وہاں پر کام کرنے والے اہلکاروں کے رہائشی علاقے سے ملحقہ جنگل میں پیر کی رات لگنے والی آگ پر منگل کی صبح قابو پا لیا گیاہے تاہم آگ سے دو کلومیٹر علاقے میں ہر چیز جل کر راکھ ہو گئی ہے۔ امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے اہلکاروں کے مطابق آگ سے جنگل بری طرح متاثر ہوا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں درخت جل کر راکھ ہوگئے ہیں۔ تاہم اٹامک انرجی کمیشن کی طرف سے آگ لگنے کے اس واقعہ کے حوالے سے نہ تو کوئی بیان جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی ذمہ دار اہلکار اس مسئلے پر بات کرنے کو تیار ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ایک تجربہ کار افسر محمود جاوید بھٹی نے آگ بجھانے کے کام کی نگرانی کی اور مقامی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ناکافی ہونے پر ملتان سمیت دوسرے علاقوں سے بر وقت مدد طلب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ آگ بہت شدید تھی اور اس سے نہ صرف جنگل کا ایک وسیع علاقہ متاثر ہوا ہے بلکہ اٹامک انرجی کمیشن کی ایک چیک پوسٹ بھی آگ کی لپیٹ میں آکر راکھ ہوگئی ہے۔تاہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ آگ لگنے کی ممکنہ وجہ بارے ان کا خیال تھا کہ دن میں درجہ حرارت اڑتالیس سے پچاس ڈگری تک پہنچ جاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس تپش میں خشک پتوں وغیرہ میں چنگاری بھڑک اٹھی ہو جس نے بعد میں ’جنگل کی آگ‘ کی شکل اختیار کر لی ہو۔ ’آگ لگنے والی جگہ ایک ممنوعہ علاقہ ہے اور یہ ممکن نہیں کہ کوئی وہاں سے گزرا ہو اور اس نے جلتا ہوا سگریٹ یا ماچس کی تیلی پھینک دی ہو‘۔ عینی شاہدین کے مطابق جنگل میں دو کلومیٹر کے علاقے میں آگ نے ہر چیز کو جلا کر رکھ دیا ہے۔ | اسی بارے میں اٹامک انرجی کے جنگل میں آگ 16 May, 2006 | پاکستان چرچ آتشزدگی، تحقیقات کا حکم20 February, 2006 | پاکستان کراچی: آتشزدگی سےنو افراد ہلاک07 January, 2006 | پاکستان بس آتشزدگی، 40 باراتی ہلاک11 December, 2005 | پاکستان خیمے میں آگ، 7 افراد ہلاک07 December, 2005 | پاکستان خیمےمیں آگ سےدو بچے ہلاک19 November, 2005 | پاکستان فیکٹری:آگ لگنے سے چھ ہلاک28 June, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||