BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چرچ آتشزدگی، تحقیقات کا حکم

سکھر چرچ آتشزدگی
واقعے کے بعد کرسچین کمیونٹی میں عدم تحفظ کی فضا پیدا ہوئی ہے
سندھ حکومت نے سکھر میں دو چرچ جلائے جانے کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جبکہ مسیحی آبادی نےمعاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سکھر میں اتوار کی شام مشتعل لوگوں نے قرآنی آیات کی بےحرمتی کے اطلاع پر دو قدیمی گرجا گھروں کو نذر آتش کردیا تھا۔

اس سلسلے میں سکھر پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے پچیس افراد کا پولیس ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔ سکھر رینج کے ڈِپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار شاہ نے بتایا کہ ’ہم نے عدالت سے ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد پچیس افراد کو تفتیش کے لیے حراست میں رکھا ہے‘۔ ریجنل پولیس افسر سکھر اکبر آرائیں نے بی بی سی کو بتایا کہ جن افراد کا ریمانڈلیا گیا ہے وہ جائے وقوع سےگرفتار ہوئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس کے اعلیٰ تفتیشی افسر واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں اور شہر میں اس وقت صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے۔

وزیرِاعلٰیٰ ارباب غلام رحیم نے کہا ہے کہ سکھر واقعہ پر ردعمل بلاجواز تھا کیونکہ پولیس نےملزم کو پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا۔پیر کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ رؤف صدیقی نے بتایا ہے کہ تحقیقات ڈی آئی جی لاڑکانہ کر رہے ہیں۔

دریں اثناء مسیحی برادری کے رہنماؤں نے جائے حادثہ کا دورہ بھی کیا۔ حیدرآباد ڈایوسس کے پروٹسٹنٹ بشپ رفیق مسیح نے بتایا کہ ’ گرجا گھر راکھ میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ سب کچھ تباہ کردیا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ پہلے سے پلانِنگ کے تحت کیا گیا‘۔ حیدرآباد ڈائیوسیس کے کیتھولِک بِشپ میکس روڈرِگس نے بتایا کہ ’پولیس حالات کو قابو میں کرنے میں فوری طور پر اقدامات اٹھانے میں ناکام رہی‘۔ کرسچن کمیونٹی سکھر کے سوشل ورکر ارشد گل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انتظامیہ نے آگ کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور چرچ کو لگی ہوئی آگ دوسرے روز تک سلگ رہی تھی‘۔

جھگڑا کوئی بھی ہو اس کو توہین رسالت بنا کر چرچ کو نذر آتش کیا جاتا ہے: بشپ صادق

کراچی اور بلوچستان ڈایوسس کے بشپ صادق ڈینیل نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سکھر واقعہ سسر اور داماد کے جھگڑے کی وجہ سے پیش آیا ہے مگر کرسچین کمیونٹی کی دل آزاری کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ’یہ عجیب قسم کا ٹرینڈ ہے، جھگڑا کوئی بھی ہو اس کو توہین رسالت بنا کر چرچ کو نذر آتش کیا جاتا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے قبل شانتی نگر میں کچھ لوگوں کی ذاتی لڑائی سے پورا کرسچن گاؤں تباہ ہوگیا۔اسی طرح سانگلہ ہل میں دو جواری جوئے کی رقم پر لڑے اور رد عمل میں مسیحی املاک کو جلا دیا گیا‘۔

خیال کیا جاتا ہے کہ سکھر میں خاندانی رنجش کی وجہ سے چند لوگوں نے حالات کو ہوا دینے کے لیے قرآن کی بےحرمتی کا معاملہ بنایا جس کے بعد حالات کنٹرول سے باہر ہوگئے اور گرجاگھروں کو آگ لگادی گئی۔

صادق ڈینیل نے کہا کہ اس واقعے کے بعد کرسچین کمیونٹی میں عدم تحفظ کی فضا پیدا ہوئی ہے اور اس صورتحال میں اقلیتی عوام اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کی زمہ داری ریاست کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے اور ملزمان کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں تاکہ کسی کو ایسے واقعات دہرانے کی جرات نہ ہو۔ بشپ نے بتایا کہ سندھ حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ چرچ کے نقصان کی تلافی کی جائےگی۔

دریں اثنا سکھر میں ضلعی انتظامیہ کے حکم پر پیر کے روز تمام تعلیمی ادارے بند رہے۔ پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کو مسیحی برادری والے علاقوں میں تحفظ کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
گرجاگھر نذرآتش، گرفتاریاں
12 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد