سکھرمیں دو چرچ نذر آتش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے شہر سکھر میں مشتعل لوگوں نے قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کی اطلاع پر دو قدیم گرجا گھروں اور ان سے متصل مشنری سکولوں کو پیٹرول چھڑکر آگ لگا دی۔ پولیس نے پچاس کے لگ بھگ لوگوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ اتوار کی شام شہر میں لوگ اس وقت مشتعل ہوگئے جب یہ اطلاع عام ہوئی کہ عیسائی مذہب کے پیروکار ایک شخص سلیم گل نے قرآن پاک کے پارے کو نذر آتش کیا ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد شہر کی نصرت کالونی پہنچ گئی جہاں سلیم گل کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس دوران پولیس پہنچ گئی۔ ڈی پی او سکھر آفتاب ہالیپوٹہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے سلیم گل کو حراست میں لے لیا اور تحقیقات کیں تو پتہ چلا سلیم کے داماد عرفان گل نے جائیداد کے تنازع پر خود کلام پاک کی بے حرمتی کی اور اس کا الزام سسر پر ڈال دیا۔ پولیس نے عرفان گل کو گرفتار کرلیا اور مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ آفتاب ہالیپوٹہ کے مطابق مشتعل لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ عرفان کو پھانسی دی جائے ہم نے انہیں سمجھایا کہ یہ کام عدالت کا ہے لیکن وہ نہیں مانے اور توڑ پھوڑ شروع کردی۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال کنٹرول میں ہے شرپسندوں کو ہم تلاش کر رہے ہیں اب تک پچاس افراد کو گرفتار کرچکے ہیں۔ ڈنڈہ بردار مشتعل لوگوں نے سکھر شہر میں تمام دکانیں بند کرادیں اور ٹائیروں کو آگ لگائی۔ کچھ لوگوں نے لوکس پارک کے قریب سینٹ فریئر اور سینٹ میری چرچ اور ان کے ساتھ میں مشنری اسکولوں کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ عینی شاہدین کے مطابق اس موقع پر پولیس موجود تھی مگر اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ ڈی پی او کا کہنا ہے کہ یہ الزام غلط ہے اگر پولیس موجود ہوتی تو ضرور کارروائی کرتی۔ کرسچن کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ٹیچر اور سوشل ورکر ارشد گل نے بی بی سی کو بتایا کہ سکھر میں گیارہ ہزار کرسچن رہتے ہیں جو خود کو اور اپنی عبادت گاہوں کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ مگر پولیس ابھی تک ہماری بستیوں کے تحفظ کے لیے نہیں پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پولیس اور انتظامیہ کو بتایا ہے کہ اگر کوئی آگیا ہم تو لڑ بھی نہیں سکتے۔ اس سے پہلے کچھ ہوجائے فورس مقرر کی جائے۔ ارشد گل کے مطابق قرآن شریف ہمارے لیے بائیبل کی طرح مقدس ہے اس کی بے حرمتی کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس واقعے کے پس منظر میں کیا محرکات ہوسکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کارٹونوں کی اشو پر پوری قوم مشتعل ہے اور اسے ایک اور رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات ہونے کے بعد ہی اصل حقائق کا بارے میں معلوم ہو سکتا ہے۔ | اسی بارے میں چرچ کی املاک بیچنے پر سزائیں 30 September, 2004 | پاکستان چرچ حملہ: تین افراد کو سزائے موت23 January, 2004 | پاکستان پاکستان میں عیسائیوں کا مظاہرہ27 May, 2005 | پاکستان لاہور: عیسائی مسلم ہنگامہ آرائی24 January, 2005 | پاکستان ’عیسائی نوجوان تشدد سے ہلاک‘05 May, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||