| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
چرچ حملہ: تین افراد کو سزائے موت
پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے تین افراد کو ٹیکسلا کے ایک جرگہ گھر پر قاتلانہ حملے کا مجرم پا کر ان کو سزائے موت سنائی ہے۔ نو اگست سن دو ہزار دو میں ٹیکسلا کے پرسبٹیرئن ہسپتال کے گرجا گھر پر ہونے والے اس حملے میں چار خواتین ہلاک ہوئی تھیں۔ یہ خواتین اس پرسبٹیرئن ہسپتال میں نرسیں تھیں۔ حملے میں بیس افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ عدالت نے ایاز احمد، سیف الرحمان اور ابو بکر کو موت کی سزا کے علاوہ عمر قید کی سزا بھی سنائی اور ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی۔ جرمانہ نہ ادا ہونے کی صورت میں ان کی قید کی سزا میں ایک سال کا اضافہ کر دیا جائے گا۔ تین اور ملزمان صابر حسین، آصف رضا ملک اور توفیق کو قتل کے الزام سے بری کر دیا گیا تاہم ان کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دہشت گردوں کو دستی بم فراہم کرنے کے الزام کا مجرم پایا گیا۔ توفیق کو دس سال قید اور صابر حسین اور آصف رضا ملک کو سات سات سال قید کی سزما سنائی گئی۔ اس حملے میں کامران میر نامی ایک دہشت گرد موقع پر ہلاک ہوا تھا جب اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک دستی بم پھٹ گیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کی سماعت اڈیالہ سنٹرل جیل میں ہوئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||