ڈی جی خان آگ: تابکاری کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی میں فزکس کے سابق پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ نیّر نے اٹامک سینٹر سے ملحق جنگل میں آتشزدگی سے تابکاری کے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ڈاکٹر نیّر کا کہنا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں اٹامک انرجی کمیشن کا ’یورینیم مِلنگ پلانٹ‘ یعنی یورینیم صاف کرنے کا کارخانہ ہے۔ صفائی کے اس عمل میں جو فضلہ بنتا ہے وہ انتہائی تابکار ہوتا ہے اور اسے مسلسل پانی کے تالابوں، جنہیں ’لیچنگ پاؤنڈز‘ کہا جاتا ہے، میں رکھنا پڑتا ہے تاکہ اس کے ذرات ہوا میں شامل ہو کر قریبی علاقوں میں نہ پھیل جائیں۔ ڈآکٹر نیّر کہتے ہیں کہ ڈیرہ غازی خان ایک انتہائی گرم علاقہ ہے جہاں لیچنگ پاؤنڈز میں پانی کی مقررہ مقدار کو برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اس صورتحال میں آگ اور اس کا دھواں تابکار مادوں کو اڑا کر دور دور تک لے جاسکتا ہے جو کہ ایک خطرناک بات ہے۔ پروفیسر نیّر کا کہنا تھا کہ اب یہ اٹامک انرجی کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تمام آبادیوں کا ’تابکاری سروے‘ کرائے جہاں جہاں یورینیم مِلنگ پلانٹ کے جنگل کو لگنے والی آگ کا دھواں اور راکھ ذرات کو اڑا کر لے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے بغلچور میں اٹامک انرجی کمیشن کی طرف سے جوہری فضلہ ڈمپ کرنے کے حوالے سے مقامی آبادی میں پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے اور اب یورینیم صاف کرنے والے کارخانے کے قریب آگ لگنے کے واقعہ نے لوگوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں اٹامک انرجی: آگ بجھا لی گئی16 May, 2006 | پاکستان اٹامک انرجی کے جنگل میں آگ 16 May, 2006 | پاکستان دو ٹن تابکاری مادہ امریکہ منتقل07 July, 2004 | آس پاس چیچنیا میں تابکاری کا انتباہ17 December, 2005 | آس پاس روسی جوہری آبدوز: تابکاری کے خدشات31.08.2003 | صفحۂ اول ’تابکاری حملہ ممکن ہے‘18.06.2003 | صفحۂ اول ’ڈرٹی بموں سے کیسے بچیں؟ ‘11.03.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||