’جوہری پلانٹ کا سب کو پتہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بتایا ہے کہ پاکستان کے پاس خوشاب ضلع میں جوہری پلانٹ ہے تاہم وہ عالمی جوہری ایجنسی ’آئی اے ای اے‘ کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ یہ بات انہوں نے پیر کو ہفتہ وار بریفنگ کے موقع پر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی خبر کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک جوہری قوت رکھنے والا ملک ہے اور خوشاب کی جوہری سائیٹ کے بارے میں بھارت سمیت سب کو معلوم ہے۔ واضح رہے کہ واشنگٹن پوسٹ نے ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان خوشاب میں اپنی جوہری سائیٹ پر ایک ہزار میگا واٹ کا جوہری ری ایکٹر لگا رہا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے پلوٹونیم کی مقدار اتنی بڑھ جائے گی کہ وہ چالیس سے پچاس جوہری ہتھیار سالانہ بنا پائے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت سالانہ پلوٹونیم والے دو جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پلوٹونیم سے بننے والے جوہری بم کو یوینیم سے بننے والے بم کی نسبت میزائل پر نصب کرنا آسان ہے۔
خوشاب کی جوہری سائیٹ کے بارے میں دفتر خارجہ کی ترجمان سے کئی سوالات کیے گئے لیکن انہوں نے اس پلانٹ کی تفصیلات بتانے سے صاف صاف انکار کیا اور کہا کہ ’میں نے جتنا کہنا تھا کہہ دیا۔‘ ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کوئی نیا انکشاف نہیں کیا گیا اور انہیں سمجھ نہیں آتا کہ اس کی آخر ضرورت ہی کیا تھی۔ تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان نے جوہری ہتھیار بنانے اور اس کا تجربہ کرنے میں پہل نہیں کی اور نہ ہی وہ اس کے پہلے استعمال کے حق میں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور اس کی خوشاب سائیٹ سے خطے میں جوہری اسلحہ کی دوڑ شروع نہیں ہوگی اور نہ پاکستان اس کے حق میں ہے۔ بھارت کے ساتھ امن مذاکرات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ بھارت نے سیکرٹری سطح کی بات چیت کے لیئے نئی تاریخیں دینےکا اشارہ دیا ہے اور انہیں ان کی تجویز کا انتظار ہے۔ رواں ماہ کے آخر میں ڈھاکہ میں سارک ممالک کے خارجہ سیکرٹریوں کے اجلاس کے متعلق انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کے سیکرٹری خارجہ وہاں آئے اور دونوں ممالک نے اتفاق کیا تو امن مذاکرات کے بارے میں بات چیت ہوسکتی ہے۔ جب ان سے بھارتی میڈیا میں آنے والی ان رپورٹوں کے بارے میں پوچھا گیا جن میں کہا گیا ہے کہ بھارتی انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ جہاں بھی انہیں شدت پسندوں کے کیمپ نظر آئے وہ ان پر حملہ کریں گے چاہے وہ پڑوسی ممالک میں ہی کیوں نہ ہوں تو تسنیم اسلم نے کہا کہ اس طرح کی خبریں انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی پاکستان شدت پسندوں کے خلاف ہے اور خطے میں امن چاہتا ہے اور اس پر بات چیت کرنے کو تیار ہے لیکن سرحدوں کے اندر کسی کو تعاقب کی اجازت نہیں دے سکتے۔ افغانستان میں زیر حراست ایک پاکستانی فوجی افسر کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہیں افغانستان کی سرحد پر واقع ویش منڈی کے مقام سے کچھ وقت قبل گرفتار کیا گیا تھا اور اب انہیں رہا کردیا گیا ہے اور وہ پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ لبنان کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی ممالک کی تنظیم کی سطح پر لائحہ عمل چاہتا ہے اور جو بھی ان کا فیصلہ ہوگا پاکستان اس پر عمل کرے گا۔ اس بارے میں انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شوکت عزیز نے ’او آئی سی، کے سیکریٹری جنرل سے بات بھی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیروت میں پاکستانی سفارتخانہ کھلا ہے اور وہ پاکستانیوں کو نکالنے میں مصروف ہے۔ ان کے مطابق جو افراد ٹکٹ نہیں خرید سکتے انہیں سفارتخانہ ٹکٹ بھی خرید کر دےگا۔ ان کے بقول تاحال انہتر پاکستانیوں کو لبنان سے شام منتقل کیا جاچکا ہے۔ | اسی بارے میں ’جوہری پھیلاؤ کی تحقیقات بند‘02 May, 2006 | پاکستان جوہری اعتمادسازی، اتفاقِ رائےنہ ہو سکا26 April, 2006 | پاکستان جوہری مذاکرات: مثبت ماحول 25 April, 2006 | پاکستان جوہری مواد، برآمد پر ضوابط سخت 27 December, 2005 | پاکستان جوہری بجلی کے پلانٹ پر کام شروع28 December, 2005 | پاکستان بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||