BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 February, 2007, 09:05 GMT 14:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری تعاون پر پاک بھارت معاہدہ

وزیر خارجہ خورشید قصوری کے دورے کے دوران مزید معاہدوں کی بھی توقع ہے
ہندوستان نے سمجھوتہ ایکسپریس کے بم دھماکے کی پاکستان کے ساتھ مشترکہ تفتیش کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے تاہم دونوں ملکوں نےحادثاتی طور پر جوہری جنگ چھڑ جانے کےامکانات کو کم کرنے کے بارے میں ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سے مذاکرات کے بعد اپنے مشترکہ پریس کانفرنس میں بھارتی وزریر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا’ہندوستان کے قانون کےمطابق اس طرح کی مشترکہ تفتیش کی اجازت نہیں ہے۔‘

تاہم مسٹر مکھرجی نے پاکستان کو یہ یقین دلایا ہے کہ’اس بہیمانہ جرم کا ارتکاب کرنےوالوں کو بخشا نہیں جائےگا۔‘

خورشید قصوری نے سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکے کی شدید ترین مذمت کرتے ہوئے یہ امید ظاہر کی کہ ہندوستان تفتیش کے نتائج سے پاکستان کو مطلع کرائے گا۔

 وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز سے اپنی بات چیت میں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ بم دھماکے کے سلسلے میں جو بھی معلومات ہوں گی ان کی تفصیلات پاکستان کو دی جائیں گي۔
خورشید محمود قصوری

انہوں نے کہا ’وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز سے اپنی بات چیت میں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ بم دھماکے کے سلسلے میں جو بھی معلومات ہوں گی ان کی تفصیلات پاکستان کو دی جائیں گي۔‘

دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی سے نمٹنے کے سوالات پر مفصل بات چیت کی اور کہا کہ آئندہ چھ مارچ کو اسلام آباد میں دہشت گردی سے متعلق مشترکہ میٹنگ میں اس سلسلے میں مزید بات چیت ہوگی۔

پرنب مکھرجی نے کہا کہ خورشید قصوری سے ان کی بات چیت دونوں ملکوں کے اس عزم کی علامت ہے ’ ہم مذاکرات کے پابند ہیں اور مذاکرات کے عمل کو جاری رکھیں گے۔‘

دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت کے بعد حادثاتی طور پر جوہری جنگ کے خطرات کو کم کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔

نئی دلی میں اس معاہدے پر دستخط پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور ان کے بھارتی ہم منصب پرنب مکھر جی کی موجودگی میں ہوئے۔اس معاہدے کے مندرجات کو عام نہیں کیا گیا لیکن یہ معاہدے جوہری شعبے میں دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کی طرف ایک قدم ہے۔

مسٹر قصوری جوائنٹ کمیشن کی میٹنگ میں حصہ لینے کے لیے دلی آئے ہیں۔ان کے ہمراہ پاکستان کے مختلف شعبوں کے ماہرین کا ایک وفد بھی دلی آیا ہے ۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے ورکنگ گروپ نے ماحولیات، سائنس و ٹکنالوجی، سیاحت، زراعت، صحت، ٹیلی موصولات، تعلیم اور اطلاعات کے شعبے میں تعاون اور معلومات کے تبادلے پر تقصیل سے بات چیت کی۔

مسٹر قصوری اور ان کے ہندوستانی ہم منصب مسٹر مکھرجی کی بات چیت پر سمجوتہ ایکسپریس کے دھماکے کے پیش نظر دہشت گردی کا سوال حاوی رہا لیکن دونوں رہنماؤں بالخصوص خورشید قصوری نےاس موقع پر کسی طرح کے تلخ بیانات دینے کے بجائے تعلقات کو بہتر کرنے اور امن کے عمل کو جاری رکھنے پر زرو دیا۔
مسٹر قصوری وزیراعظم منموہن سنگھ اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔

اسی بارے میں
طویل ایجنڈے پر مفصل بات چیت
21 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد