BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 February, 2007, 03:39 GMT 08:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طویل ایجنڈے پر مفصل بات چیت
ہندوستانی وزیرِ خارجہ پرنب مکھرجی
دونوں ممالک جوہری حادثات کے امکان کو کم کرنے کے لیے بھی ایک معاہدے پر دستخط کریں گے
پاکستان اور ہندوستان بدھ کو دلی میں ایک طویل ایجنڈے پر باضابطہ مذاکرات اور اعتمادسازی کے اقدامات میں مزید پیش رفت پر غور کرنے والے ہیں۔

امکان ہے کہ مذاکرات کے اس اہم دور کے بعد دونوں حکومتوں کے نمائندے کچھ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری تقریباّ اٹھارہ تیکنیکی ماہرین کے ایک وفد کے ساتھ مذاکرات کے لیے گزشتہ روز دلی پہنچے۔

اتوار کی رات پانی پت کے قریب سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکوں کے نتیجے میں 68 افراد کی ہلاکت کے بعد خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں پہلے سے طے شدہ مذاکرات ملتوی نہ کر دیئے جائیں لیکن دونوں ملکوں نے بات چیت جاری رکھنے کو ترجیح دی۔

خورشید قصوری بدھ کو وزیر اعظم من موہن سنگھ اور حزب اختلاف کے قائدین سے ملاقاتیں کریں گے۔ تاہم ان کے اصل مذاکرات بھارت کے وزیر خارجہ پرنب مکرجی کے ساتھ ہوں گے۔

دہلی سے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے مذاکرات کا ایجنڈا کافی طویل ہے جس پر مفصل بات چیت ہوگی اور اعتمادسازی کے اقدامات میں پیش رفت پر بھی غور کیا جائے گا۔

کیا خفیہ معلومات کا تبادلہ ممکن ہے؟
 دونوں ممالک خفیہ معلومات کے تبادلے پر شاید تیار نہ ہوں لیکن اگلے دو تین اجلاسوں میں ابتدائی طور پر ایسا ہونا ممکن ہے کیونکہ دہشت گرد انڈیا اور پاکستان دونوں ممالک میں اہداف مقرر کرتے ہیں اور انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں
صحافی سدھارت ورد راجن

اتوار کی رات سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے کی واردات ان مذاکرات کو کس طرح متاثر کر سکتی ہے اس کے بارے میں شکیل اختر کا کہنا تھا دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردی کی کارروائی کو مذاکرات کے راہ میں حائل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

خورشید محمود قصوری نےگزشتہ روز ان خدشات کی تردید کی تھی کہ سمجھوتہ سانحے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری امن کے عمل پر اثر پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا: ’بلکہ اس واقعے کے بعد تو امن کے عمل میں اور تیزی لائی جانی چاہیے۔‘ انہوں نے کہا کہ سمجھوتہ بم حملوں کا ارتکاب کرنے والوں کو اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونا چاہیے۔

دلی میں سینئر صحافی سدھارت ورد راجن نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان قائم مشترکہ کمیشن جس کا اجلاس بدھ کو ہو رہا ہے، دوطرفہ اشوز کے حل میں کافی مدد فراہم کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ فوری طور پر دونوں ممالک خفیہ معلومات کے تبادلے پر شاید تیار نہ ہوں لیکن اگلے دو تین اجلاسوں میں ابتدائی طور پر ایسا ہونا ممکن ہے کیونکہ دہشت گرد انڈیا اور پاکستان دونوں ممالک میں اہداف مقرر کرتے ہیں اور انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ خورشید قصوری اس دورے میں علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔

دونوں ممالک جوہری حادثات کے امکان کو کم کرنے کے لیے بھی ایک معاہدے پر دستخط کریں گے۔ اس کے علاوہ بدھ کو ہونے والے مذاکرات میں کشمیر کا مسئلہ اور سیاچن گلیشیئر پر فوج میں کمی پر بھی بات چیت ہوگی۔

اسی بارے میں
لواحقین کے لیے خصوصی ٹرین
19 February, 2007 | پاکستان
فون ہیلپ لائن، ویزا کی سہولت
19 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد