لاشوں کی شناخت پر متضاد دعوے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کی شناخت کے بارے میں متضاد اطلاعات مل رہی ہیں اور بدھ کی صبح بھارتی حکام نے کہا ہے کہ اب تک صرف 18 لاشوں کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔ منگل کو پاکستانی وزیر مملکت برائے امورِ خارجہ خسرو بختیارنے دعویٰ کیا تھا کہ اننچاس افراد کی شناخت ہوگئی ہے جن میں بائیس پاکستانی شامل ہیں۔ پانی پت کے سول ہسپتال میں موجود بی بی سی ہندی سروس کے نامہ نگار شیام سندر نے بتایا ہے کہ ہسپتال کے حکام کے مطابق جن لاشوں کی شناخت ہوئی ہے ان میں 13 لاشیں پاکستانیوں کی ہیں جبکہ پانچ لاشیں ہندوستان کے شہریوں کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک اننچاس لاشوں کی شناخت باقی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں رکھی ہوئی لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونے حاصل کر کے انڈیا کی مختلف لیبارٹریوں میں بھیج جا رہے ہیں۔ شناخت کے عمل کے دوران مرنے والوں کے ورثاء کے خون کے نمونے حاصل کیے جائیں گے جن کا موازنہ لاشوں کے ڈی این اے کے نمونے سے کرنے کے بعد پتہ چلایا جائے گا کہ کون سی لاش کس کی ہے۔
پانی پت ہسپتال کے ڈاکٹروں اور دیگر ماہرین نے بتایا ہے کہ مرنے والے افراد کی ہڈیوں سے مواد اور ٹشوز حاصل کیے گئے ہیں جنہیں مختلف لیبارٹریوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ لاشوں کو کچھ دنوں تک محفوظ رکھنے کے لیے ہندوستانی فوج کے ڈاکٹروں کی مدد سے خصوصی انتظام کیے گئے ہیں اور لاشوں پر کیمائی اجزاء کا لیپ کیا گیا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس عمل سے لاشیں سات سے دس دن تک محفوظ رہ سکتی ہیں۔ ضرورت ہوئی تو درجـۂ حرارت کو مزید کم کرنے کے انتظام کیے جائیں گے تاکہ لاشیں زیادہ دن تک موسم کے اثرات سے بچ سکیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ بدھ کی صبح سوا چار بجے پاکستان سے نو افراد پانی پت پہنچے ہیں جو اپنے رشتہ داروں کی شناخت کے لیے یہاں خصوصی طور پر آئے ہیں۔
ان افراد کو بدھ کی صبح ہسپتال میں کچھ لاشیں دکھائی گئیں لیکن ابھی تک کوئی لاش شناخت نہیں کی جا سکی تھی۔ بی بی سی کے نامہ نگار شیام سندر نے بتایا کہ ہندوستان پہنچنے والے پاکستانی جب ہسپتال سے باہر نکلے تو ان کے چہرے پتھرائے ہوئے تھے۔ ایک پاکستانی زاہد حسین کا کہنا تھا: ’ہم نے لاشیں دیکھیں ہیں مگر ہم سے کسی کی پہچان نہیں ہو پار ہی۔ لاشیں بری طرح مسخ ہیں اور چھ فٹ کا انسان جل کر دو فٹ کا رہ گیا ہے۔ ایسے میں کوئی کس طرح شناخت کر سکتا ہے۔‘ منگل کی دوپہر بھارتی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ نئی دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال میں داخل زخمیوں کی فہرست کے مطابق ہسپتال میں بارہ افراد زیر علاج ہیں جن میں سے دس کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ادھر پاکستان کے وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری منگل کو دلی پہنچ گئے۔ وہ ایئرپورٹ سے سیدھے صفدر جنگ ہسپتال پہنچے جہاں انہوں نے سمجھوتہ ایکسپریس کے زخمیوں کی عیادت کی۔
گزشتہ روز پاکستان کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ خسرو بختیار نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی حکومت نے انہیں بتایا ہے کہ تاحال اننچاس لاشوں کی شناخت ہوئی ہے اور ان میں سے ستائیس بھارتی اور بائیس پاکستانی شہری ہیں۔ دریں اثناء لاہور میں بھارتی ہائی کمیشن کی طرف سے قائم کردہ کیمپ آفس سے منگل کی شام تک متاثرہ خاندانوں کے چالیس افراد کو ویزے جاری کیے جا چکے تھے۔ ہریانہ پولیس نے دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث دو مشتبہ افراد کے خاکے جاری کیئے ہیں۔ ہریانہ پولیس نے کچھ لوگوں کو تفتیش کے لیے حراست میں بھی لیا ہے۔ تاہم انہوں نے سکیورٹی انتظامات میں خامیوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔ |
اسی بارے میں تھر ایکسپریس تئیس دسمبر سے03 November, 2006 | پاکستان پاک بھارت ریل رابطہ بحال15 January, 2004 | پاکستان سمجھوتہ ایکسپریس روانگی کے لئے تیار14 January, 2004 | صفحۂ اول سمجھوتہ ٹرین کے لیے بات چیت17 December, 2003 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||