’لال ٹی شرٹ پر دو لکھا ہوا تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’جسم پر کپڑا نہیں ہے صرف ڈھانچہ ہے۔۔۔۔وہ بھی بلکل جلی ہوا۔ ہم بچے کچھے کپڑے رکھ لیتے ہیں۔ڈائری، قلم، پھٹا ہوا پاسپورٹ: سب لاش کے پاس رکھ دیتے ہیں۔۔۔۔اور لوگ لاش کی شناخت کر لیتے ہیں۔‘ یہ کہنا ہے اسپتال میں کام کرنے والے روہتاس کا۔ روہتاس سمجھوتہ ایکپریس میں بم دھماکوں کے سبب ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو صبح سے الگ کرنے میں لگے رہے۔اور لاشوں کی شناخت کرانے میں لوگوں کی مدد کرتے رہے۔ روہتاس کا کہنا ہے ’شناخت کروانے کا کام بہت مشکل ہے، کیوں کہ کندھے سے اوپر ہاتھ نہیں ہے، گھٹنے سے نیچے پیر نہیں ہے، لاش کو دیکھ کر صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ مرد ہے یا عورت۔‘
بچوں کی لاشوں کے بارے میں بتا تے ہوئے روہتاس کی آنکھوں سےآنسو نکل پڑتے ہیں جسے وہ چپ چاپ پی جاتے ہیں۔ ایک بچے کی لاش کے بارے میں وہ بتا تے ہوئے کہتے ہیں ’بارہ تیرہ سال کا ایک بچہ تھا۔ اس کی لال رنگ کی ٹی شرٹ تھی۔ اس پر دو لکھا ہوا تھا۔ میں نے ویڈیو ریکارڈنگ کی تا کہ کوئی دیکھے تو پہچان لے۔ بچہ تو بچہ ہوتا ہے صاحب۔‘ روہتاس کہتے ہیں کہ لاشوں کی شناخت کروانا ان کا کام ہے۔ ایک ساتھ پچاس لاشیں دیکھ کر بھی وہ بالکل نہیں لیکن ’جب بچوں کی لاش کو میں نے چھویا تو ہمت ہار گیا۔‘ وہ کہتے ہیں’ہم بھی گھر جاتے ہیں تو بچوں کو دیکھ کر دل خوش ہوجاتا ہے۔ آج کسی کا بچہ بھی مرگیا ہے اسے کتنی تکلیف ہوگی وہ میں سمجھ سکتا ہوں۔‘ |
اسی بارے میں ’مرنے والوں کی کوئی ذات ہوتی ہے‘19 February, 2007 | انڈیا دھماکہ: کشمیری خاتون بھی ہلاک19 February, 2007 | انڈیا ٹرین دھماکہ، زخمیوں کی ابتدائی فہرست19 February, 2007 | پاکستان امن مذاکرات جاری رہیں گے: پاکستان19 February, 2007 | پاکستان لواحقین کے لیے خصوصی ٹرین19 February, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||