BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 February, 2007, 16:57 GMT 21:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امن عمل سبوتاژ نہیں کیا جا سکتا‘
منموہن سنگھ
’ہندوستان اور پاکستان کی عوام کی تقدیر مشترک ہے‘
ہندوستان کے وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ دہشتگردی کی کارروائیوں سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری امن کے عمل کو سبوتاژ نہیں کیا جا سکتا۔

صفدر جنگ ہسپتال میں سمجھوتہ ایکسپریس کے زخمی مسافروں کی عیادت کے بعد منموہن سنگھ نے کہا کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکہ’ ایک بھیانک جرم تھا اور اس جرم کے مرتکبین کو اس کی سزا دی جائےگی‘۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ دہشتگرد ہندوستان اور پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے تعلقات خراب کرنا اور امن کے اس عمل میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہيں’جو اطمینان بخش طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ملکوں کا پختہ عزم ہے کہ’ہم دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ سمجھوتہ ایکسپریس کے متاثرہ مسافروں کو سب سے بہترین خراج عقیدت یہی ہوگا کہ دونوں ممالک امن کے عمل کو مزید مستحکم کرنے کا عہد کریں۔

ان کا کہنا تھا’میں نے ہمیشہ اس بات پر یقین کیا ہےکہ ہندوستان اور پاکستان کی عوام کی تقدیر مشترک ہے‘۔

اس سے قبل منگل کی سہ پہر بھارت کے دورے پر نئی دلی پہنچنے کے بعد پاکستانی وزیرِ خارجہ خورشید قصوری نے بھی کہا تھا کہ ان دھماکوں نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی لعنت بن چکی ہے اور دونوں ملکوں کو اس سے نمٹنے کے لیے بامعنی باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
دہشتگردی ایک لعنت: قصوری
20 February, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد