BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 February, 2007, 09:46 GMT 14:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انچاس افراد کی شناخت: بارہ کے نام جاری
ٹرین دھماکوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے شدید اذیت کا شکار ہیں
بھارتی حکام کی طرف سے نئی دہلی میں پاکستانی سفارت خانے کو منگل کی شام کو فراہم کردہ فہرست میں سمجھوتہ ایکسپریس میں ہلاک ہونے والے صرف بارہ افراد کے نام اور پتے درج ہیں جبکہ پاکستانی وزیر مملکت برائے امورِ خارجہ خسرو بختیار کے مطابق انچاس افراد کی شناخت ہوگئی ہے جن میں بائیس پاکستانی شامل ہیں۔

سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں کے واقعے کو دو دن گزر جانے کے بعد ابھی تک سرکاری طور ہلاک شدگان کی مکمل فہرست جاری نہیں کی جا سکی ہے۔ بھارتی اور پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ لاشیں بری طرح جھلس جانے کی وجہ سے شناخت میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

اس سانحے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں بھی متضاد دعوی کیے جاتے رہے ہیں تاہم منگل کی دوپہر بھارتی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ نئی دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال میں داخل زخمیوں کی فہرست کے مطابق ہسپتال میں بارہ افراد زیر علاج ہیں جن میں سے دس کا تعلق پاکستان سے ہے۔

پاکستان کے وزیر ریلوے شیخ رشید نے قومی اسمبلی میں ان دھماکوں پر بحث کے دوران بھارت کی حکومت پر تنقید کی اور ان پر عدم تعاون کا الزام لگایا۔

ادھر پاکستان کے وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری منگل کو دلی پہنچ گئے ہیں۔ وہ ایئرپورٹ سے صفدر جنگ ہسپتال پہنچے جہاں انہوں نے سمجھوتہ ایکسپریس کے زخمیوں کی عیادت کی۔

حکام کا کہنا ہے کہ عین ممکن ہے کہ لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے پڑیں گے۔

دریں اثناء پاکستان کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ خسرو بختیار نے منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی حکومت نے انہیں بتایا ہے کہ تاحال انچاس لاشوں کی شناخت ہوئی ہے اور ان میں سے ستائیس بھارتی اور بائیس پاکستانی شہری ہیں۔

آخری اطلاعات تک تمام لاشیں پانی پت ہی میں ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق زخمیوں کی حالت کے پیش نظر فی الحال انہیں پاکستان منتقل کیا جانا ممکن نہیں ہے۔

کچھ پاکستانی زخمیوں کو ڈاکٹروں کی ہدایت پر کچھ وقت کے لیے انڈیا ہی رکھا جائے گا

پاکستان کے وزیرِ خارجہ امن کے عمل کے سلسلے میں اپنے بھارتی ہم منصب سے بدھ کو باضابطہ مذاکرات کریں گے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس ملاقات میں سمجھوتہ سانحے پر بھی بات چیت ہو گی۔ ہندوستان اور پاکستان کے رہنما پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سمجھوتہ سانحے سے امن کے عمل کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

لاہور میں بھارتی ہائی کمیشن کی طرف سے قائم کردہ کیمپ آفس سے منگل کی شام تک متاثرہ خاندانوں کے چالیس افراد کو ویزے جاری کیے جا چکے تھے۔

دریں اثناء ہریانہ پولیس نے دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث دو مشتبہ افراد کے خاکے جاری کیئے ہیں۔ ہریانہ پولیس نے کچھ لوگوں کو تفتیش کے لیے حراست میں بھی لیا ہے۔ تاہم انہوں نے سکیورٹی انتظامات میں خامیوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔

اتوار کی رات پانی پت میں جل جانے والوں کے پاکستانی لواحقین انتہائی مضطرب اور پریشان ہیں کہ انہیں کسی قسم کی کوئی اطلاع نہیں مل پا رہی ہے۔

پاکستان نے اپنے شہریوں کی لاشوں اور زخمیوں کو وطن واپس بھیجنے کے لیے C-130 خصوصی طیارے کو ہندوستان روانہ کرنے کی تیاری کر رکھی ہے اور جیسے ہی بھارت سے اجازت ملی، یہ طیارہ دلی سے لاشیں اور زخمیوں کو لانے چلا جائے گا۔

دیکھیےویڈیو کوریج
ٹرین دھماکوں کے بعد بدلتی صورت حال
ٹرین’گھرمیں کہرام ہے‘
فیصل آباد کی ایک فیملی کے 6 افراد ہلاک ہوئے
جلے ہوئے کنگن
لائن پر جلے ہوئے بکسے اور لوگوں کی چپلیں
ہیلپ لائن کا قیام
رشتہ داروں کے لیے ہیلپ لائن اور فوری ویزہ
یاسمینہ کی والدہ حلیمہآخری سفر
یاسمینہ 7 سال بعد بچوں سے ملنے جارہی تھیں
کلدیپ سنگھ انسانیت کا جذبہ
’مرنے والوں کی کوئی ذات ہوتی ہے؟‘
اسی بارے میں
تھر ایکسپریس تئیس دسمبر سے
03 November, 2006 | پاکستان
پاک بھارت ریل رابطہ بحال
15 January, 2004 | پاکستان
سمجھوتہ ٹرین کے لیے بات چیت
17 December, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد