’منصفانہ انتخاب کے لیے آزاد عدلیہ لازم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آزاد اور منصفانہ انتخابات خود مختار عدلیہ کی غیر موجودگی میں ناممکن ہیں اور خود مختار عدلیہ کے بغیر جمہوریت کی طرف کامیاب سفر نہیں کیا جاسکتا۔ اس بات کا اظہار سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر منیر اے ملک نےانگریزی روزنامہ ڈان میں جمعرات کو چھپنے والے اپنے مضمون میں کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف اکٹھے بیٹھے اور اے پی ڈی ایم اور اے آر ڈی مل کر چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کریں گے جس کے پورا ہونے پر اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں حصہ لیں گی۔ منیر ملک نے مضمون میں لکھا کہ خود مختار عدلیہ کی غیر موجودگی میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کا ہونا ناممکن ہے اور یہ اُسی وقت ممکن ہے جب تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کو بحال کیا جائے۔ انہوں نے انتخابات میں ججوں کے کردار پر لکھا ہے کہ انتخابات کرانے کی ذمہ داری پاکستان الیکشن کمیشن کی ہے۔ الیکشن کمیشن کے سربراہ سے لے کر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر تک تمام جج صاحبان ہیں۔ اور ہر صوبے میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر، ریٹرننگ آفیسر اور اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر اس صوبے کے چیف جسٹس کے ماتحت ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف نامزد امیدوار الیکشن ٹریبونل جائے گا جو کہ ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح انتخابات میں دھندلی کے خلاف امیدوار الیکشن کمیشن کی تشکیل دی گئے الیکشن ٹریبونل میں جائیں گے اور الیکشن ٹریبونل کے فیصلوں کے خلاف صوبائی ہائی کورٹ میں اور پھر سپریم کورٹ۔ یعنی کہ نامزدگی داخل کرانے سے لے کر آخر تک امیدوار کو عدلیہ کے پاس جانا ہے۔ اور یہ سوچ لینا کہ آزاد عدلیہ کے بغیر آزاد اور منصفانہ انتخابات ہو سکتے ہیں بہت ناسمجھی پر مبنی بات ہے۔ منیر ملک نے لکھا کہ تین نومبر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، دو صوبائی چیف جسٹس اور بیشتر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جسٹس کو سبکدوش کردیا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ پرویز مشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے خلاف پٹیشن سن رہے تھے۔ انہوں نے لکھا کہ وکلاء برادری کبھی بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو تسلیم نہیں کرے گی اور ان کے سامنے پیش ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اسی طرح وہ سیاسی جماعتیں جو کہ خود مختار عدلیہ کے بغیر انتخابات میں حصہ لیں گی وہ بعد میں پچھتائیں گی۔ انہوں نےمزید لکھا کہ الیکشن شیڈول آنے سے پہلے سینکڑوں ماتحت عدالت کے ججوں کے تبادلے کیے گئے۔ اس کا کیا مقصد تھا لیکن یہی جج ہیں جنہوں نے ریٹرننگ افسروں کے فرائض سر انجام دینے ہیں۔ منیر ملک نے لکھا کہ وہ رجائیت پسند ہیں لیکن احمق نہیں۔ انتخابات میں دھاندلی ہو گی اور معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے گی۔ اور اس قانون ساز اسمبلی کے سامنے دو ہی راستے ہوں گے۔ یا تو گھر جائے یا پھر ایک غاصب کے اقتدار کو قانونی جواز بخشے۔ اس سلسلے میں تصویر کافی واضح ہے جس میں شریف برادران کے کاغذات نامزدگی مسترد کردئے گئے ہیں اور وہ اپیل نہیں کر رہے۔ اگر سیاسی جماعتیں آزاد اور منصفانہ انتخابات چاہتی ہیں تو خود مختار عدلیہ کا مطالبہ کریں اور اس مطالبے پر کسی قسم کی لچک نہ دکھائی جائے۔ | اسی بارے میں جنرل مشرف کے نام امریکن بار کا خط08 November, 2007 | پاکستان چودھری ہی اصل چیف جسٹس:بی بی، صحافیوں، وکلاء کا احتجاج جاری10 November, 2007 | پاکستان وکلاء کی اپیل ’ملک بچاؤتحریک‘17 November, 2007 | پاکستان ججوں کوگھر خالی کرنے کا حکم25 November, 2007 | پاکستان حلف پر احتجاج، پولیس لاٹھی چارج29 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||