حلف پر احتجاج، پولیس لاٹھی چارج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں پرویز مشرف کے صدارتی حلف کے خلاف مظاہرہ کرنے والے وکلاء پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا ہے اور متعدد وکلاء کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد حراست میں لے لیا ہے۔ حراست میں لیے جانے والے وکلاء صدر مشرف کی حلف برداری کے خلاف لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے یومِ سیاہ کے موقع پر ایوانِ عدل سے باہر آ کر احتجاجی مظاہرہ کرنا چاہتے تھے لیکن پولیس نے عمارت کا گیٹ بند کردیا اور وکیلوں پر لاٹھی چارج کیا۔ وکلاء کی جانب سے مزاحمت پر پولیس اہلکاروں اور وکلاء کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی اور وکیلوں نے مشروبات کی خالی بوتلیں پولیس پر پھینکیں۔اس موقع پر پولیس نے دو وکیلوں کو پکڑ کر سرعام تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وکلاء میں مزید اشتعال پھیلا۔ پولیس چند وکیلوں کو پکڑ کر بھی لے گئی تاہم ان کی تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ وکلاء کو حراست میں لیے جانے کے بعد احتجاجی وکیلوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوگیا اور وہ صدر مشرف اور پولیس کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے مال روڈ پر آگئے جہاں انہوں نے دھرنا دیا۔ وکیلوں کامطالبہ تھا کہ ان کے گرفتاری ساتھیوں کو فوری رہا کیا جائے۔ اس سے قبل لاہور کے ایوان عدل میں صدر کی حلف برداری کے خلاف منعقدہ احتجاجی اجلاس وکلاء نے میں صدر مشرف کے خلاف تقاریر کیں۔ اس اجلاس میں سینکڑوں وکلاء شریک ہوئے اور ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ اجلاس میں پانچ نومبر کے مظاہروں پر پولیس کے تشدد اور سینکڑوں وکلاء کی گرفتاریوں کی مذمت بھی کی گئی۔ وکلاء رہنماؤں نے کہا کہ پہلے انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ پولیس وکیلوں کے خلاف اس حد تک جائے گی لیکن اب وہ پولیس کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔ |
اسی بارے میں مشرف کی حلف برداری، یومِ احتجاج28 November, 2007 | پاکستان ’ہم یہ حلف برداری نہیں مانتے‘28 November, 2007 | پاکستان ’خیرمقدم: مگر ایمرجنسی اٹھائیں‘29 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||