علی سلمان بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور |  |
 | | | نواز لیگ کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس چھ گھنٹے جاری رہا |
مسلم لیگ نون کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ’پرویز مشرف جمعرات کو صدر کا جو حلف اٹھا رہے ہیں اس کی کوئی قانونی اور آئینی حثیت نہیں ہے اور مسلم لیگ نون کا موقف ہے کہ ہم انہیں نہیں مانتے۔‘ یہ بات انہوں نے بدھ کو لاہور میں اپنی پارٹی کی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ ’ٹی وی چینل بند کرکے عوام کی آنکھیں یا کان بند نہیں کیے جاسکتے۔ ’عدلیہ کو نکال کر اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کر کے اپنے آپ کو قانونی حثیت نہیں دلوائی جاسکتی۔‘ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جس عدالت کو قوم مانتی ہی نہیں اس کے فیصلے کو کیسے مانے گی اور اس کورٹ کے فیصلے سے خود کو صدر منتخب کرانا یا ڈیکلئر کرانا بہت افسوسناک تماشہ ہے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ اگر عدلیہ کو تین نومبر سے پہلی والی پوزیشن میں بحال کردیا جاتا ہے تو پھر وہ اپوزیشن کے اتحاد اے پی ڈی ایم کے ساتھ ملکر کوئی مثبت بات کرسکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک عدلیہ کی دو نومبر والی صورتحال بحال نہیں ہوجاتی حکومت سے کوئی بات یا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا
نواز شریف کی پاکستان آمد کے بعد یہ ان کی پارٹی کی مجلس عاملہ کا پہلا اجلاس تھا اور اجلاس میں آئندہ انتخابات کے بائیکاٹ کے حوالے سے فیصلہ کیا جانا تھا۔یہ اجلاس چھ گھنٹے جاری رہا لیکن نواز شریف کے مطابق ایک چوتھائی افراد بھی اپنی بات مکمل نہیں کرسکے اس لیے مشاورت کا سلسلہ جاری رہےگا۔ البتہ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کی مجلس عاملہ نے انہیں یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے الیکشن میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ چاہیں تو ابھی اکیلے ہی فیصلے کا اعلان کرسکتے ہیں لیکن ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اے پی ڈی ایم اور بے نظیر سے مشاورت کے بعد اور ان سے ملکر کوئی فیصلہ کریں تاکہ جو بھی فیصلہ ہو وہ تمام سیاسی قوتوں کا متفقہ فیصلہ ہو۔ میاں نواز شریف نے واضح کیا کہ بائیکاٹ کے حوالے سے ان کی پارٹی کا وہی موقف ہے جو اپوزیشن اتحاد اے پی ڈی ایم کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات کو ان کی ماڈل ٹاؤن والی رہائش گاہ میں اے پی ڈی ایم کا اجلاس ہوگا جس میں انتخابات کے حوالے سے مزید بات چیت کی جائے گی۔’ ہم انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں،سول سوسائٹی،وکلاء اور صحافیوں سے بھی مشورہ کریں گے اور ایک ایسا فیصلہ کریں گے جس میں پوری قوم شامل ہو۔‘ |