ذوالفقار علی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | حالیہ دنوں میں وکلاء طویل تحریک چلانے میں کامیاب رہے ہیں |
پاکستان بار کونسل نے وکلاء سے کہا کہ وہ پرویز مشرف کے صدارت کے عہدے کا حلف اٹھانے کے خلاف جمعرات کو احتجاج کے دن کے طور پر منائیں۔ پرویز مشرف کل پانچ سال کی مدت کے لیے صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ عبوری آئین کے تحت حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر جمعرات کو پرویز مشرف سے حلف لیں گے۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین مرزا عزیز اکبر بیگ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چونکہ جنرل پرویز مشرف وردی میں رہتے ہوئے صدر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کی آئینی اہلیت نہیں رکھتے تھے اس لیے وکلاء ان کو صدر کے عہدے پر فائز ہونے کا اہل تصور نہیں کرتے۔ پی سی او کے تحت حلف لینے والی سپریم کورٹ نے جنرل پرویز مشرف کے صدر بننے میں تمام قانونی رکاوٹیں ختم کردی ہیں۔ اور جنرل مشرف نے آرمی چیف کا عہدہ بھی چھوڑ دیا ہے۔ لیکن پاکستان کی وکلاء برادری کا کہنا ہے کہ انہیں جنرل مشرف بطور صدر بھی قبول نہیں کیونکہ وہ ’غیرآئینی صدر‘ ہیں۔ بار کونسل کے وائس چیئرمین مرزا عزیز اکبر بیگ نے وکیلوں سے اپیل کی ہے کہ پرویز مشرف کے صدارت کے عہدے کا حلف اٹھانے کے خلاف وہ کل ملک بھر میں احتجاج کا دن منائیں، عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کریں اور جلسے جلوس نکالیں۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ آئین، جمہوریت اور برطرف کیے جانے والے ججز کی بحالی اور پرویز مشرف کے ہٹائے جانے تک تحریک جاری رکھیں گے۔ پاکستان میں وکلاء کی جانب سے پہلی بار اتنی مؤثر اور طویل تحریک دیکھنے میں آئی ہے۔ ایسے میں اب بھی پاکستان بھر میں وکلاء کی تنظیم بظاہر مایوس نظر نہیں آتی ہیں۔ |